Al-Risala · October 1990 · page 43

Taqwa is to mobilize the people

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳

صبح کو ۹ بجے دکا سے تو اون کے لئے قافلہ کی صورت میں روانگی ہوئی۔ سڑک نہایت عمدہ اور ر کشادہ تھی۔ اس کا بیشتر حصہ سمندر (البحر المحیط) کے کنارے کنارے گزرتا ہے۔ درمیان میں بعض گاؤں دکھائی دیے۔ ۔ مکانات معمولی انداز میں بنائے گئے تھے۔ پختہ تعمیرات زیادہ تر قدیم فرانسیسی طرز کی نظر آئیں۔ درمیان میں ایک تعلیمی ادارہ دار العلوم، دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بورڈ پر اس کا نام معہد الازہر للدر اسات الاسلامیۃ (511554 .Tel) لکھا ہوا تھا۔ ہم لوگ اس کے اندر گئے ۔ اس کے کئی درجات دیکھے ۔ کلاس کی صورت اسکولوں کی مانند تھی۔ ایک طرف دیوار کالی کر کے اس کو بلیک بورڈ کی صورت دی گئی تھی۔ یہاں استاد کھڑا ہوا تھا۔ سامنے ڈسک پر طلبہ بیٹھے ہوئے تھے۔ استاد عربی زبان میں لیکچر کے انداز میں انھیں پڑھا رہا تھا۔

یہ طریقہ مجھے پسند آیا ۔ ہندوستان میں کثرت سے عربی مدارس قائم ہیں۔ مگر ان میں ذریعہ تعلیم اردو رکھا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آدمی عربی مدرسے سے فارغ ہو جاتا ہے مگر عربی بولنے کی صلاحیت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔

اس کے بعد ہم تو اون پہنچے۔ یہاں خلیفہ الحاج عبد العزیز سی سے ملاقات ہوئی۔ یہ اندازہ ہوا کہ انھیں عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ آج ان کی اپیل پر بے شمار لوگ کانفرنس کے شرکاء کے استقبال کے لئے نکل پڑے تھے۔ اس سے پہلے دکار کے اجتماع میں میں نے دیکھا کہ وہاں خلیفہ کے نمائندہ نے تقریر کی اور پریسیڈنٹ نے تقریر کی۔ مگر خلیفہ کے نمائندہ نے جب خلیفہ کا ذکر کیا تو ان کے لئے پریسیڈنٹ سے بھی زیادہ تالیاں بجائی گئیں۔

یہاں کے سیاسی لیڈر اس راز کو سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ مذہبی رہنماؤں کو بالکل نہیں چھیڑتے۔ وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ شاہ ایران نے اسی معاملہ میں غلطی کی اور اس کی قیمت اسے یہ دینی پڑی کہ اس کا اقتدار ایران سے ختم ہو گیا۔ شاہ ایران کو جس چیز نے ختم کیا وہ خود شاہ کے غیر حکیمانہ اقدامات تھے، اور سینیگال کے سیاسی لیڈر اس غلطی سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچائے ہوئے ہیں۔ تو اون کا اجتماع الحاج عبد العزیز سی کی موجودگی میں ہوا۔ یہاں پریسیڈنٹ کا ایک نمائندہ بھی موجود تھا۔ اس نے ایک سے زیادہ بار یہ جملہ دہرایا : ذالك ببركة دعوات اسلافنا الکرام۔

(باقی)

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page