Al-Risala · October 1990 · page 47

ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۷

ان کو ہمیں جنگ کی قوت سے نہیں بلکہ امن کی قوت سے حل کرنا چاہئے۔ یہ واضح طور پر الرسالة کے فکر کی تاثیر کی ایک مثال ہے۔

جو ہانسبرگ ( افریقہ) کے انگریزی ماہنامہ البلاغ نے اپنے صفحات میں الرسالہ انگریزی کے مضامین نقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کے ایڈیٹر نے اپنے خط (۲ جولائی ۱۹۹۰ ) میں لکھا ہے :

I have taken the liberty of reproducing an article in the current issue of Al-Balagh, and wish to do so in future also, with your kind permission, for da'wah work. Your articles are short, concise, succinct and to the point. They are eye-openers and I, for one, enjoy reading them immensely. Every article, including the titbits, are highly educative and enlightening. (A.S.K. Joommal)

سرینگر کا اخبار " روشنی" کشمیر کے جنگجوؤں اور دہشت گردوں کی باتیں مسلسل چھاپتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ الرسالہ کے وہ مضامین بھی تقریباً ہر شمارہ میں چھاپ رہا ہے جن میں امن اور تعمیر اور انسانیت کا پیغام ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نام نہاد اسلام پسندوں کی چھیڑی ہوئی تخریبی سیاست کے ساتھ الرسالہ کا تعمیری فکر کس طرح متوازی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔

جناب مہدی حسن صاحب (بنارس) نے ۲۰ جون ۱۹۹۰ کی ملاقات میں بتایا کہ پروفیسر نور محمد بنارسی امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں قانون کے استاد ہیں۔ ان کی یونیورسٹی میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں غیر مسلم حضرات بھی شریک تھے۔ ایک غیر مسلم پروفیسر نے کہا " یہ بتائیے کہ آپ کے اسلام میں وہ کون سی تعلیم ہے جو موجودہ حالات میں سب سے زیادہ قابل عمل اور ریلیونٹ ہے۔ ایک مسلمان پروفیسر نے کہا کہ "صلح حدیبیہ کا اصول ایک ایسا اصول ہے جو آج کے حالات میں سب سے زیادہ قابل عمل اور ریلیونٹ ہے۔ غیر مسلم حضرات نے اس جواب کو بہت پسند کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کا طرزِ فکر کس طرح عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ پہلے سے کیا جا رہا تھا۔ اب اس کا انگریزی ترجمہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page