Al-Risala · November 1990 · page 2

عجیب فرق

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲

عجیب فرق

جو لوگ قرآن کو مان کر قرآن کے دین کو اختیار کریں، ان کے بارہ میں قرآن میں ہے کہ ایسے لوگوں کا نام مُسْلِم رکھا گیا ہے : ھو سماکم المسلمین (الحج ۷۸) یہ بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی سادہ سی چیز دوسرے مذہب والوں کو حاصل نہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین کو جو لوگ مانتے ہیں ، ان کو یہودی (Jews) کہا جاتا ہے۔ مگر ان کی مقدس کتاب بائبل میں کہیں بھی یہ درج نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا تھا کہ میرے ماننے والوں کا نام یہودی ہوگا۔ اسی طرح مسیح علیہ السلام کے دین کو جو لوگ مانتے ہیں ان کو مسیحی (Christians) کہا جاتا ہے۔ مگر انجیل (نئے عہد نامہ) میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ مسیح علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کا نام مسیحی رکھا تھا۔

یہی حال ہندو ازم یا ہندو دھرم کے ماننے والوں کا ہے۔ یہ حضرات اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں۔ مگر اپنی جن کتابوں کو وہ مقدس مانتے ہیں، ان میں کہیں بھی یہ لکھا ہوا نہیں ملتا کہ اس دھرم کو جو لوگ مانیں، ان کا نام ہندو ہوگا اور انھیں ہندو کہا جائے گا۔

ٹائمس آف انڈیا (۲۰ اگست ۱۹۹۰) میں اندرا رو در منڈ (Indira Rothermund) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے ہندو دھرم میں فنڈمنٹلزم کے لیے کوئی جواز نہیں : Fundamentalism has no legitimacy in Hindu dharma اس مضمون میں درج ہے کہ ایک ممتاز ہندو مورخ نے بتایا ہے کہ لفظ ہندو کسی بھی قدیم ہندوستانی متن میں نہیں پایا جاتا۔ یہ لفظ عرب حملہ آوروں نے آٹھویں صدی عیسوی میں وضع کیا تھا۔ یہ لفظ جغرافی معنوں میں تھا اور وہ ان لوگوں کے لیے بولا جاتا تھا جو دریائے سندھ کے ساحل پر یا اس کے اُس پار رہتے تھے :

An eminent historian has pointed out that the word Hindu is not found in many ancient Indian texts but was coined by the invading Arabs in the 8th century AD and was a geographical term applied to people who lived on or beyond the banks of the river Sindhu or Indus (p. 9).

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page