عجیب فرق
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳
نہ صرف نام بلکہ ہر بات جو اسلام میں دین کا جز سمجھی جاتی ہے، اس کی ٹھوس بنیاد خود قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب میں بہت بڑے پیمے پر تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اس لیے وہ آج جن چیزوں کو مانتے ہیں، ان کے لیے ان کے پاس ٹھوس تاریخی بنیاد موجود نہیں۔ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے اور دوسرے تمام مذاہب غیر محفوظ مذہب۔ اسلام اپنے پیچھے مکمل تاریخی استناد رکھتا ہے، جب کہ دوسرے مذاہب تاریخی استناد کی زمین سے محروم ہیں۔ اسلام پورے معنوں میں ایک سائنٹفک مذہب ہے، اور دوسرے تمام مذاہب بے ثبوت عقیدہ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو، جدید علمی معنوں میں، سائنٹفک مذہب کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ اسلام آج کا مذہب ہے، جب کہ دوسرے مذاہب دورِ قدیم کے مذہب کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے مذاہب اصلاً غلط تھے۔ اپنی ابتدائی اصل کے اعتبار سے تمام مذاہب سچے تھے۔ مگر بعد کے زمانہ میں وہ اپنی اصل صورت کو باقی نہ رکھ سکے ، اس لیے وہ علمی اور تاریخی اعتبار سے قابلِ اعتبار نہ رہے۔
اسلام کو یہ امتیازی صفت اللہ تعالیٰ نے اس لیے دی تھی کہ اہلِ عالم کے درمیان اس کی تبلیغ کا کام آسان ہو جائے۔ جب مذاہب کی لمبی فہرست میں ایک ہی مذہب مستند ہو اور بقیہ تمام مذاہب غیر مستند، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب طالبینِ مذہب کے لیے انتخاب کا معاملہ آسان ہوگیا۔ اب ان کے لیے تلاش و جستجو کا مسئلہ نہ رہا۔ اب تو میدانِ ان میں ایک ہی صداقت ہے جس کو انھیں بلا بحث اختیار کر لینا چاہیے ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اس واحد سچائی کو دنیا کے سامنے تو پیش نہ کیا، البتہ اس کے واحد سچائی ہونے پر فخر کرنے لگے ۔ انھوں نے اسلام کی امتیازی شان کو اس کی تبلیغ کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اس کو اپنے لیے سرمایۂ فخر بنالیا۔
مسلمان اگر اسلام کی تبلیغ کرتے تو انھیں اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا انعام ملتا۔ مگر اپنی دیواروں پر ہم کو اسلام پر فخر ہے“ لکھ کر وہ صرف اپنے آپ کو مجرم ثابت کر رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues