Al-Risala · November 1990 · page 10

تبدیلی کا اصول

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰

تبدیلی کا اصول

اسلام سے پہلے عرب کے زمانہ کو جاہلیت کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ اس زمانہ میں ایک بار مکہ کے لوگوں میں جھگڑا ہوا۔ یہاں تک کہ جنگ کی تیاریاں ہونے لگیں۔ یہ جھگڑا اس بات پر تھا کہ مکہ کے بڑے مناصب (السقاية، الحجابة، اللواء، الندوة) کس کے پاس رہیں۔ آخر کچھ سنجیدہ لوگوں کی کوشش سے اس پر صلح ہوگئی کہ حجابہ اور لواء اور ندوہ بنو عبد الدار کے پاس رہے۔ اور سقایہ اور رفادہ بنو عبد مناف کو دیدیا جائے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں :

فلم يزالوا على ذلك حتى جاء الله تعالى وہ لوگ اس پر قائم تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بالاسلام ۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام بھیجا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ ما كان من حلف في الجاهلية فإِنَّ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو بھی معاہدہ تھا، الاسلام لم يزده الا شدةً اسلام نے اس کے سوا کچھ اور نہیں کیا ہے کہ (سیرۃ ابن ہشام، ۱/۱۳۴) اس کو اور زیادہ مستحکم بنا دیا ہے۔

اس سے اسلام کی پالیسی کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے ۔ اسلام سے پہلے مکہ کے لوگ مشرک تھے۔ ان کا یہ فیصلہ دورِ شرک کا کیا ہوا فیصلہ تھا جو اسلام کے مسلمہ دشمن رہ چکے ہیں۔ ان سب کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلہ کو نہیں بدلا۔ بلکہ اس کے مزید استحکام کا اعلان فرمادیا۔

مخالف پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد اس کے تمام پچھلے فیصلوں کو بدلنا انتہائی غیر حکیمانہ ہے۔ بلکہ یہ سرکشی کا فعل ہے ۔ اس طرح کی تبدیلیاں صرف مسائل کو بڑھاتی ہیں۔ سماج میں بد عنوانیوں کے ابھرنے کا موقع ملتا ہے ۔ حتیٰ کہ اس کے نتیجہ میں اصلاح کے نام پر فساد ظہور میں آتا ہے ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ غلبہ کے باوجود ماضی کے ڈھانچہ کو باقی رکھا جائے ، اور جن چیزوں کو بدلنا ضروری ہو ان کو بھی یک لخت نہ بدلا جائے ۔ بلکہ تدریجی رفتار سے فطری انداز میں ان کے اندر تبدیلی لائی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد بیشتر امور کو علیٰ حالہ برقرار رکھا۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے فطری عمل کے تحت اپنے آپ تمام چیزیں اسلامی رنگ میں رنگ گئیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page