Al-Risala · November 1990 · page 9

بند ذہن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۹

بند ذہن

یونانی فلسفی ارسطو (۳۲۲ - ۳۸۴ ق م) نے لکھا ہے کہ گول دائرہ معیاری دائرہ ہے اور وہ جیومیٹری کی کامل صورت ہے ۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر ارسطو نے کہا کہ فطرت (نیچر) کا ہر کام چوں کہ معیاری ہوتا ہے ، اس لیے فطرت آسمانی اجرام کو جن دائروں میں گھما رہی ہے ، وہ صرف گول دائرہ ہی ہو سکتا ہے ۔

ارسطو کا یہ نظریہ قدیم زمانہ میں تمام لوگوں کے دماغوں پر چھایا ہوا تھا۔ قدیم زمانہ میں ہیئت کے جو نظام بنائے گئے ، مثلاً بطلیموس کا نظام ، کوپرنیکس کا نظام ، ٹائیکو برا ہے کا نظام ، سب میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ آسمانی اجرام (نظام شمسی کے سیارے) سب کے سب خلا کے اندر گول دائروں میں گھومتے ہیں ۔

کیپلر (Johannes Kepler) غالباً پہلا شخص ہے جس نے اس کے خلاف سوچا۔ اس نے حساب لگا کر ۱۶۰۹ میں بتایا کہ مریخ کی گردش سورج کے گرد گول دائرہ میں نہیں ہے ۔ بلکہ وہ بیضوی مدار (elliptical orbit) میں گھومتا ہے ۔ اس نے پیشین گوئی کی کہ دوسرے تمام سیارے جو سورج کے گرد گھومتے ہیں ، وہ بھی بیضوی شکل ہی میں گھومتے ہیں۔ کیپلر کا یہ نظریہ آج ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا ہے ۔

قدیم ہیئت داں دو ہزار سال تک گول دائرہ کے تصور میں گم رہے ۔ وہ سیاروں کی گردش کے بارہ میں دوسرے نہج پر سوچ نہ سکے ۔ اس کی وجہ ارسطو کے نظریہ کی عظمت تھی۔ اس نظریہ کو انھوں نے بلا بحث ایک مسلمہ حقیقت مان لیا۔ اس بنا پر ان کا ذہن کسی اور انداز میں کام نہیں کر پاتا تھا ۔

یہ صرف قدیم زمانہ کی بات نہیں ، یہ ہر دور کی بات ہے ۔ ہر زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض خیالات آدمی کے دماغ پر اتنا زیادہ چھا جاتے ہیں کہ ان سے نکل کر آزادانہ طور پر سوچنا آدمی کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے ۔ یہ مذہبی دائرہ میں بھی ہوتا ہے اور غیر مذہبی دائرہ میں بھی ۔ یہ بند ذہن ہر قسم کی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page