Al-Risala · November 1990 · page 24

بائبل کی پیشین گوئی

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۴

(الکہف ۲۹) کا موقع باقی رہے۔

ایسی حالت میں دنیا کے اندر جبر کا نظام قائم کرنا براہ راست مصلحتِ خداوندی کے خلاف ہے۔ کوئی شخص جب کسی علاقے میں جبر کا نظام قائم کرتا ہے تو گویا وہ خدا کے قائم کئے ہوئے نظام میں مداخلت کرتا ہے۔ خدا ایسے شخص یا گروہ کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔ وہ ایسے لوگوں سے طاقت چھین کر انھیں باہر پھینک دیتا ہے۔

کچھ لوگ جہاد (یعنی قتال) کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اس کا مقصد موانع دعوت کو ہٹانا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ جہاد (معنی قتال) صرف دفاع کے لئے ہوتا ہے۔ جہاں تک موانع دعوت کا تعلق ہے وہ خود خدا کی طرف سے ہٹائے جاتے ہیں۔ موانع دعوت خدا کا مسئلہ ہے، وہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ ہمارا مسئلہ دعوت پہنچانا ہے، اگر ہم دعوت پہنچانے کا کام کریں تو خدا کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ وہ ضرور موانع دعوت کا خاتمہ کر دے گا۔

بائبل کی پیشین گوئی

بائبل میں اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ــــ۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی ۔ اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں (حبقوق ۳ : ۶) :

وقف و فاس الارض ۔ نظر فرجف الامم ودكت الجبال الدهرية وخسفت آكام القِدَم ۔ مسالك الازل له (حبقوق ۳ : ۶)

اس پیشین گوئی کا تعلق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اس میں ” ازلی پہاڑ “ اور ” قدیم ٹیلے “ سے مراد رومی اور ساسانی سلطنتیں ہیں۔ یہ سلطنتیں جبر پر قائم تھیں۔ انھوں نے قدیم زمانہ میں وہ چیز پیداکر رکھی تھی جس کو قرآن میں فتنة کہا گیا ہے۔ اور جس کو ہنری پرین (Henri Pirenne) نے شاہانہ مطلقیت (Imperial absolutism) سے تعبیر کیا ہے۔ اس شاہانہ مطلقیت نے قدیم زمانہ میں دعوتِ حق کے تمام مواقع ختم کر دیے تھے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اللہ تعالیٰ نے عرب طاقت کے ذریعہ ان شہنشاہیتوں کو توڑ دیا۔

اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار آزادانہ غوروفکر کا دور شروع ہوا۔ اس طرح وہ حالات پیدا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page