Al-Risala · November 1990 · page 25

دورِ جدید کا نظامِ جبر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵

ہوئے جب کہ اہل حق آزادانہ طور پر خدا کے دین کی تبلیغ کریں اور لوگ آزادانہ غور وفکر کے تحت اس کو قبول کرلیں۔

دورِ جدید کا نظامِ جبر

موجودہ زمانہ میں مذکورہ قسم کی شاہانہ مطلقیت دوبارہ نئی صورت میں قائم ہوگئی۔ یہ وہ نظامِ جبر ہے جو کمیونسٹ نظریہ کے تحت سوویت یونین میں ۱۹۱۷ میں قائم ہوا۔ یہ جابرانہ نظام دوبارہ شدید تر صورت میں دعوتِ حق کی راہ میں مانع بن گیا۔ بیسویں صدی کے اس نظامِ جبر میں تاریخ کی سب سے بڑی طاقت کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی کہ خدا اور مذہب کو آخری حد تک انسانی زندگی سے مٹا دیا جائے۔

مگر دوبارہ خدا کا قانون دفع حرکت میں آیا۔ خدا نے اپنی برتر مداخلت کے ذریعہ اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ سوویت یونین، ٹائم میگزین ۱۲ مارچ ۱۹۹۰ کے لفظوں میں، سوویت ڈس یونین (Soviet Disunion) بن گیا۔

مارکسزم کا خاتمہ

۱۹۵۸ میں راقم الحرفوں نے ایک کتاب لکھی تھی، اس کا ٹائٹل تھا: مارکسزم، تاریخ جس کو رد کر چکی ہے۔ اس وقت لوگوں کو یہ ٹائٹل بڑا عجیب معلوم ہوا تھا، مگر آج ۱۹۹۰ میں ساری دنیا کے اخبارات ورسائل میں ایسے مضامین چھپ رہے ہیں جن کی سرخی اس قسم کی ہوتی ہے : The Collapse of Socialist system Soviet Empire is Crumbling The End of Communist History Marxism is Over Total Failure of Communism Fragmented Empire of the U.S.S.R. ہندوستان ٹائمس (یکم جنوری ۱۹۹۰) نے کسی مغربی اخبار سے ایک کارٹون نقل کیا تھا۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک ویران قبرستان ہے۔ اس کے ایک طرف کارل مارکس کی قبر بنائی گئی ہے۔ قبر کے اوپر ایک پتھر لگا ہوا ہے۔ اس پتھر پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے : Marx: Finally buried 1989

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page