Al-Risala · November 1990 · page 27

اسلام کا دور

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷

ہزاروں مسجدیں اور مدرسے بند کر دئے گئے۔ اسلامی لٹریچر کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی۔ اسلامی تعلیم یا اسلامی سرگرمیاں جرم قرار پاگئیں۔ مگر نئے انقلاب نے دوبارہ سوویت روس میں اسلامی سرگرمیوں کے دروازے کھول دئے ہیں۔

اسلام کا دور

سوویت روس میں عبادت خانے بند کر دئے گئے تھے۔ مذہب کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا تھا۔ حکومت کی طرف سے ایک مستقل محکمہ قائم کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ سوویت روس سے مکمل طور پر مذہب کے خاتمہ کی تدبیریں اختیار کرے۔ مگر آج یہ تمام چیزیں عملاً ختم ہو چکی ہیں۔ سوویت روس میں اب ایک ہزار سے زیادہ مسجدیں مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ اسلامی لٹریچر شائع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ چنانچہ ۱۹۹۰ء میں وہاں سے ایک اسلامی جریدہ "نور الاسلام" کے نام سے نکالا گیا ہے۔ روسی حکومت کی منظوری کے تحت خود روس کی ہوائی کمپنی ایر وفلاٹ نے قرآن کے ایک ملین نسخے جدہ سے ماسکو پہنچائے ہیں، جب کہ اس سے پہلے قرآن کا ایک نسخہ بھی روس کے اندر لے جانا ممنوع تھا۔

کمیونسٹ انقلاب کے بعد سوویت روس میں حج کا سفر بند کر دیا گیا تھا۔ اب خود سوویت یونین کے صدر میخائیل گور باچیف نے روسی ایئر لائن ایروفلاٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ روسی حاجیوں کو عرب پہنچانے کا خصوصی انتظام کرے اور اس مقصد کے لئے ماسکو، تاشقند، باکو، تاتار، قازان اور دوسرے بڑے روسی شہروں سے جدہ تک براہ راست پروازیں جاری کرے۔ اسی کے ساتھ گور باچیف نے روسی وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ سوویت روس سے جو مسلمان حج کے لئے جانا چاہیں، ان کے لئے سہولت ویزا جاری کیا جائے۔

سوویت روس میں اسلام کے لئے جو نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، ان کے سلسلہ میں یہ چند باتیں بطور مثال ہیں نہ کہ بطور حصر۔ انھیں چند مثالوں سے بقیہ باتوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کارل مارکس نے اپنی ایک تحریر میں مذہب کے خلاف نہایت سخت ریما رک دیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ مذہب عوام کی افیون ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page