Al-Risala · November 1990 · page 32

What is the Origin of Man?

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۲

مثال کے طور پر بائبل میں زمین پر انسان کے ظہور کی جو تاریخ دی گئی ہے ، اس کے لحاظ سے حساب لگایا جائے تو 1991 میں زمین پر انسان کے ظہور کی مدت ۷۵۵۲ سال ہوگی ۔ سائنسی نقطہ نظر سے انسانی عمر کا تعین مضحکہ خیز ہے ۔ مگر اس قسم کی غیر علمی اور غیر تاریخی باتیں تمام مذہبی کتابوں میں پائی جاتی ہیں ۔

اس میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ قرآن کا ہے ۔ قرآن میں اس قسم کی کوئی مثال مطلق طور پر موجود نہیں ۔ اس موضوع پر مختلف کتابیں چھپ چکی ہیں ۔ فرانس کے ڈاکٹر موریس بوکائی (Dr Maurice Bucaille) کی مشہور کتاب (The Bible, the Qur'ān and Science) خاص اسی موضوع پر ہے جو پہلی بار فرانسیسی زبان میں ۱۹۷۶ میں شائع ہوئی تھی ۔ اور اب تک ۱۰ زبانوں میں اس کے ترجمے کئے جا چکے ہیں ۔

اس سلسلہ میں ڈاکٹر بوکائی کی دوسری کتاب ۱۹۸۴ میں پیرس سے شائع ہوئی ہے ۔ ۲۰۴ صفحہ پر مشتمل اس کتاب کے انگریزی ایڈیشن کا نام یہ ہے :

What is the Origin of Man?

ڈاکٹر موریس بوکائی نے اس کتاب میں خاص طور پر ان آیات کا مطالعہ کیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جسم مادر کے اندر انسان کی ابتدائی تخلیق کس طرح ہوتی ہے ۔ مثلاً ؛ اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا ۔ پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا ۔ پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک علقہ کی شکل دی ۔ پھر علقہ کو گوشت کا ایک لو تھڑا بنایا ۔ پس لو تھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں ۔ پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ۔ پھر ہم نے اس کو ایک نئی صورت میں بنا کر کھڑا کیا ۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ ، بہترین پیدا کرنے والا (۲۳ / ۱۲ - ۱۴) ڈاکٹر بوکائی نے دکھایا ہے کہ پیغمبر اسلام کے الہام کا زمانہ ۶۱۰ سے ۶۳۲ تک ہے ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مشرق و مغرب میں ہر طرف علمی تاریک خیالی (scientific obscurantism) کا ذہن چھایا ہوا تھا ۔ چنانچہ اس دور کی تمام کتابوں میں اس زمانہ کے غیر علمی خیالات کا انعکاس پایا جاتا ہے ۔

مگر قرآن حیرت انگیز طور پر اس عمومی تاثر سے مستثنیٰ ہے ۔ قرآن میں اپنے زمانہ کی کوئی ایک بھی علمی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page