What is the Origin of Man?
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳
غلطی راہ نہ پاسکی۔ حتیٰ کہ قرآن اگر اس زمانہ کی کسی روایجی بات کو نقل کرتا ہے تو وہ صرف اس کے صحیح اجزاءء کو نقل کرتا ہے ، اور اس کے غیر صحیح اجزا کو حذف کرتا چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر موریس بوکائی نے اس سلسلہ ہیں ان آیتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے جن کا تعلق انسان کی پیدائش اور رحم مادر میں اس کے ارتقاء سے ہے۔ انھوں نے تفصیل سے دکھایا ہے کہ انسان کی پیدائش کے بارہ میں قرآن کے جو بیانات ہیں وہ حیرت انگیز طور پر جدید تحقیقات کے عین مطابق ہیں۔ وہ تحقیقی نتائج جو پہلی بار صرف بیسویں صدی کے نصف آخر میں سامنے آئے ہیں ، وہ ۱۴۱ سوسال پہلے کی کتاب قرآن میں کیوں کر موجود ہیں ، یہ ظاہرہ (phenomenon) انتہائی حد تک عجیب ہے۔
ڈاکٹر بوکائی اس قسم کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علم کی تاریخ ہم کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہے کہ قرآن میں اس قسم کی آیتوں کی موجودگی کی کوئی انسانی توجیہہ ممکن نہیں : The history of science leads us to conclude that there can be no human explanation for the existence of these verses in the Qur'ān (p. 188). اس طرح کی کثیر مثالیں میں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ علم کا دریا (river of knowledge) جو لوگوں کو انیسویں صدی میں الحاد کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا تھا ، اب بیسویں صدی میں وہ اپنا رخ موڑ کر مذہب کی طرف جارہا ہے۔ مذہبی عقائد عین سائنٹفک سطح پر ثابت شدہ حقائق بنتے جارہے ہیں۔ مذہب آج خالص سائنس کی روشنی میں سب سے زیادہ قابل فہم اور قابل اعتبار آئیڈیالوجی بن گیا ہے۔
یہاں میں اضافہ کروں گا کہ مذہب کی صداقت کا ثابت ہونا اسلام کی صداقت کا ثابت ہونا ہے۔ کیوں کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب تبدیلی اور اضافہ کی بنا پر اپنا استناد کھو چکے ہیں ۔ اب میدان میں صرف اسلام ہے جس کو مستند اور قابل قبول مذہب کا درجہ یا جاسکے۔ سائنس کی طرف سے مایوسی یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کی سائنسی دریافتوں نے انسان کو علم سے زیادہ بے علمی تک پہنچا دیا ہے۔ مثلاً بلیک ہول کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ ہماری کائنات کا صرف ۳ فی صد حصہ ہمارے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues