What is the Origin of Man?
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۴
قابل مشاہدہ ہے۔ بقیہ ۹۰ فی صد حصہ روشنی خارج نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے لیے قابل مشاہدہ ہی نہیں۔
یہ سادہ طور پر مادہ (mass) کی بات ہے۔ جہاں تک مادی مشاہدات کی توجیہہ کا سوال ہے تو اس معاملے میں سائنس نے ہمیں کسی بھی یقینی جواب تک نہیں پہنچایا ہے۔ ہر چیز جس کو آدمی جاننا چاہتا ہے، بہت جلد وہ دیکھتا ہے کہ اس کی حد (limit) آگئی۔ اور اس کے آگے معاملہ کو جاننا یا سمجھنا آدمی کے لئے موجودہ حالت میں ناممکن ہے۔
ان تجربات کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ میں آدمی نے سائنس کے بارے میں اپنے یقین کو کھودیا ہے۔ کمیونسٹ دنیا کا مسئلہ اگر جبر تھا، تو آزاد مغربی دنیا کا مسئلہ ذہنی گھمنڈ (intellectual arrogance) تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو سائنس کی محدودیت (Limitations) بتا کر ان کے علمی گھمنڈ کو چور چور کر دیا۔
یہاں میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کا ایک پیراگراف نقل کروں گا۔ اس نے "ہسٹری آف سائنس" کے آرٹیکل کے تحت لکھا ہے کہ ابھی حال تک ، سائنس کی تاریخ کامیابی کی تاریخ تھی ۔ سائنس کی کامیابیاں بڑھتے ہوئے علم ، اور جہالت اور تو ہم پرستی پر فتح کی نمائندگی کر رہی تھیں ۔ سائنس سے ایجادات کا ایک سیلاب نکلا تھا جو انسانی زندگی کو ترقی دینے والا تھا۔ مگر حال میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دوچار ہے۔ لا محدود تکنیکل ترقیوں سے پیدا ہونے والے خطرات نے مورخین کو مجبور کیا ہے کہ وہ سائنس کے بارے میں اپنے ابتدائی سادہ خیالات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں :
Until recently, the history of science was a story of success. The triumphs of science represented a cumulative process of increasing knowledge and a sequence of victories over ignorance and superstition; and from science flowed a stream of inventions for the improvement of human life. The recent realization of deep moral problems within sci- ence, of external forces and constraints on its development, and of dangers in uncontrolled technological change has challenged historians to a critical reassessment of this earlier simple faith. (16/366) خلاصہ کلام دوسری دنیا (کمیونسٹ دنیا) میں اسلامی دعوت کے لئے کام کرنے کے مواقع مسدود ہو گئے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues