Al-Risala · November 1990 · page 37

سفر نامہ - ۳

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷

اخباری نمائندے جمع ہوئے اور سوال و جواب کے انداز میں گفتگو ہوئی۔

مگر پریس کے نمائندوں نے جو سوالات کئے، وہ زیادہ تر سطحی نوعیت کے تھے۔ ایک صحافی نے یہ سوال کیا کہ کانفرنس نے سلمان رشدی کے بارے میں کوئی تجویز پاس نہیں کی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس سوال و جواب کو سن کر مجھے احساس ہوا کہ اس وقت پوری ملت اسلام قول بلا فعل کی سطح پر ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ہر مسلمان اس بات کو ثابت کرنے پر اپنے آخری الفاظ خرچ کر دینا چاہتا ہے کہ سلمان رشدی واجب القتل ہے۔ حتی کہ وہ اس قابل ہے کہ کوئی بھی شخص اس پر قابو حاصل کرکے اس کو قتل کر دے۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ہر شخص قتل کی بات کرتا ہے مگر کوئی شخص قتل کرنے کے لئے نہیں اٹھتا۔ حتی کہ ایران کی حکومت نے ایک سال پہلے اعلان کیا تھا کہ سلمان رشدی کے قتل کے لئے ایک اسکواپیڈ روانہ کر دیا گیا ہے۔ مگر آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ وہ اسکوا پیڈ کہاں گیا۔ ہندوستان پاکستان یا کسی بھی ملک کے کسی مسلم دانشور یا عالم نے ایسا نہیں کیا کہ وہ خود انگلینڈ جائے یا اپنے صاحبزادے کو وہاں بھیجے اور پھر وہ یا تو سلمان رشدی کو مارنے میں کامیاب ہو یا اسی راہ میں اپنی جان دیدے۔

حقیقت یہ ہے کہ سلمان رشدی کے واقعے نے سلمان رشدی سے زیادہ خود موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب نے اگر سلمان رشدی کو شتم رسول کا مجرم ثابت کیا ہے تو مسلم لکھنے اور بولنے والوں کو قول بلا فعل کا مجرم ثابت کیا ہے۔ اور دوسرا جرم یقیناً پہلے جرم سے کسی طرح کم نہیں۔

اس سفر کے دوران مجھے ایک عرب ملک کی مطبوعہ رپورٹ (۱۹۸۹) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں نام بنام دکھایا گیا تھا کہ کس ملک کو کس مد میں کتنی رقم دی گئی۔ ہندوستان کے عنوان کے تحت اس رپورٹ میں حسب ذیل الفاظ درج تھے :

الهند : لجنة تعمير المساجد، لاصلاح المساجد المتضررة من الزلازل 20,000$ اس اندراج کے مطابق، ہندوستان میں تعمیر مساجد کے لئے ایک ادارہ اس نے ۳۰ ہزار ڈالر ان مساجد کی مرمت کے لئے حاصل کیا ہے جن کو زلزلوں سے نقصان قائم ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page