سفر نامہ - ۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸
پہنچا ہے۔
یہ پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی ۔ "لجنة تعمیر المساجد" کے نام سے کوئی معروف ادارہ ہندوستان میں موجود نہیں۔ اور اگر بالفرض "سٹیپ اور لیٹر پیڈ" کی سطح پر ایسا کوئی ادارہ کہیں موجود ہو تو یہ یقینی ہے کہ ۱۹۸۹ میں یا اس سے پہلے کے قریبی سال میں ہندوستان میں کوئی زلزلہ نہیں آیا جس میں مسجدوں کو نقصان پہنچا ہو اور اس کی ضرورت پیش آئی ہو کہ باہر سے رقم لا کر ان کی مرمت کرائی جائے ۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کا "بارش طبقہ" کتنے برے انداز میں عرب ملکوں کے جذبہ انفاق کا استحصال کر رہا ہے ۔
عبد المغنی شمس الدین (عمر ۴۶ سال) کوالالمپور (مالیزیا سے آئے تھے۔ وہ اخوانی تحریک سے متاثر ہیں ۔ جامعہ ازہر کے پڑھے ہوئے ہیں، اس لئے عربی روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ اختتام سے آغاز کرنا چاہتے ہیں، وہ آغاز سے اپنے عمل کی ابتدا کرنا نہیں چاہتے، یہی وجہ ہے کہ وہ لفظی شور وغل اور بے فائدہ ٹکراؤ کے سوا امت کو کوئی اور چیز نہیں دے سکے۔ وہ ہر جگہ "نظام" کو توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں کے مزاج اور طرز فکر کو بدلا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ مگر فکر بدلنے کے تمام بڑے بڑے ذرائع (اسکول ، ریڈیو، ٹیلیویژن، اخبارات وغیرہ) سب حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ پھر حکومت کو بدلے بغیر طرز فکر کو بدلنے کا کام کیسے کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک زبردست مغالطہ ہے جس میں موجودہ مسلم مفکرین پچھلی نصف صدی سے مبتلا ہیں۔ حالانکہ واقعات نے اس کا بے معنی ہونا آخری طور پر ثابت کر دیا ہے۔
میں نے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان میں مکمل اقتدار ملا ۔ اور سید ابو الاعلیٰ مودودی سمیت تمام اسلام پسند لوگوں نے ان کی تائید کی۔ ضیاء الحق صاحب ساڑھے گیارہ سال تک، آپ کے الفاظ میں، فکر بنانے والے تمام اداروں پر مکمل قبضہ کر کے اس کو افکار بدلنے کے لئے استعمال کرتے رہے۔ حتی کہ انھوں نے جماعت اسلامی کے افراد کو ان شعبوں کا چارج دیدیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues