Al-Risala · November 1990 · page 39

سفر نامہ - ۳

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۹

مگر ساڑھے گیارہ سال کی کوشش کے باوجود دادنی درجے میں بھی لوگوں کی فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج پاکستان کا ذہن پہلے سے بھی زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ضیاء الحق صاحب کی موت کے فوراً بعد جو عوامی الیکشن ہوا، اس میں پاکستان کے عوام نے ضیاء الحق کے دور کے تمام افراد کے خلاف ووٹ دے کر انہیں ہرا دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دورِ اول کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ بنایا۔ اس کا نام ذہن کی تبدیلی ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینے کے لوگ عبداللہ بن ابی جیسے کسی شخص کو اپنا حکمران بنا لیتے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک وہاں کے لوگوں کے ذہن کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے یہی صورتِ ضیاء الحق صاحب کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیش آئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تعمیرِ فکر کا کام ایک خالص غیر سیاسی کام ہے۔ وہ حکومت واقتدار کے باہر انجام دیا جاتا ہے نہ کہ حکومت واقتدار کے اندر۔

امنی کی صبح کو ہمارا قافلہ تو با (Touba) کے لئے روانہ ہوا۔ وہاں سینیگال کے سب سے بڑے صوفی رہتے ہیں۔ ان کا نام شیخ عبد القادر مباقی (M'Backe) ہے۔ وہ طائفہ مرید یہ کے پیر ہیں۔ اس حلقہ کو احمد بامبا نے قائم کیا تھا۔ ان کی رہائش گاہ کے دروازہ پر مسکن الشیخ الخدیم لکھا ہوا تھا۔

بزرگ اپنے لباس اور حلیہ کے اعتبار سے اسی روایتی انداز میں تھے جو ہندوستان کے بزرگوں کا انداز ہے۔ مگر ان کا وسیع مرکز پورے معنوں میں ”ماڈرن“ تھا۔ میز، قالین صوفہ سٹ، ٹیلی فون، غرض ہر چیز موجود تھی۔ مجھے حمام (ٹائلٹ) میں جانے کا اتفاق ہوا۔ حمام خالص مغربی طرز کا بنا ہوا تھا۔ جتنی دیر ہم لوگ شیخ کے پاس رہے، ٹیلی وژن کا عملہ مسلسل ہر چیز کو ریکارڈ کرتا رہا۔ وسیع کمرہ ملاقات ٹیک لکڑی کا منقش انداز میں بنایا گیا تھا۔ ایک بڑی کرسی بزرگ کے لئے تھی جن کو یہاں الشیخ الاکبر کہا جاتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ آئے۔ ایک بات نے خاص طور پر مجھے سوچنے کا موقع دیا۔ وہ یہ کہ شیخ اپنی شخصیت (پرسنلٹی) کے اعتبار سے نہایت غیر جاذب تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page