سفر نامہ - ۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳
بیچے تھے۔ اس غیر انسانی تجارت میں ڈچ ، پرتگالی ، فرانسیسی ، انگریز سب شریک تھے۔ جزیرہ گورے میں قدیم طرز کی مگر صاف ستھری خوب صورت مسجد ہے۔ اس میں کوئی گنبد نہیں ہے۔ مسجد کے ایک طرف پہاڑی ہے اور دوسری طرف سمندر ۔ یہاں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی ۔ اور پھر امام سے ملاقات کی۔ امام صاحب نے بتایا کہ یہ مسجد افریقہ کی چند قدیم مسجدوں میں سے ایک ہے۔
نئی دہلی میں سینیگال کے سفارت خانہ کی طرف سے کچھ تعارفی لٹر یچر دیا گیا تھا۔ ایک پمفلٹ میں جزیرہ گورے کے بارے میں بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ یہاں غلام گھر ہے جس کا دروازہ سمندر کی طرف کھلتا ہے۔ یہ انسان کے اوپر انسان کے ظلم کی ایک دہشت ناک یاد دہانی ہے : The slaves house with its door opened on the ocean is a terrible reminder of the cruelty of men towards men. ان الفاظ کو پڑھ کر صرف یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جزیرہ گورے میں کوئی عمارت ہے جس کو " غلام گھر " کہا جاتا ہے ۔ مگر جب میں نے وہاں جا کر غلام گھر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور زنجیریں اور دوسری چیزیں دیکھیں تو اندازہ ہوا کہ واقعی سیاہ فام لوگوں کے ساتھ کتنا زیادہ ظلم کیا جاتا رہا ہے تاہم یہ مشاہدہ بھی آخری نہیں ۔ اس سے زیادہ دہشت ناک مشاہدہ وہ ہو گا جب کہ آدمی اس وقت وہاں موجود ہو جب کہ یہ انسانیت سوز واقعہ ہو رہا تھا ۔ وہ اپنی آنکھوں سے سیاہ فام لوگوں کے ساتھ عملاً حیوانی سلوک ہوتے ہوئے دیکھے۔ موجودہ زمانہ میں اہل مغرب نے " نیگرو " اور دوسرے ناموں سے کچھ فلمیں بنائی ہیں۔ ان میں ایکٹنگ کے ذریعہ وہ تمام قدیم مناظر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مگر یہ دیکھنا بھی آخری نہیں دیکھنا نہیں۔ اس سے بڑا اور آخری مشاہدہ وہ ہے جب کہ کوئی شخص دونوں کی اندرونی حالت کو دیکھ سکے ۔ ایک طرف وہ سفید فام لوگوں کے اندرون کو دیکھے کہ کس شقاوت کے ساتھ وہ اس فعل کو انجام دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ سیاہ فام مظلوموں کے دلوں کی حالت جان سکے کہ کس طرح ذلت اور ظلم کی اس ناقابل برداشت صورت کو وہ برداشت کر رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues