Al-Risala · November 1990 · page 44

سفر نامہ - ۳

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۴

یہ آخری حقیقت صرف خدا دیکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے سوا کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ انسانوں کا عادلاً نہ حساب کر سکے۔

الٹی کو جمعہ کا دن تھا۔ نماز کے لئے ہم لوگ دکار کی جامع مسجد میں لے جائے گئے۔ یہ مسجد جامع قرویین کے طرز پر بنی ہوئی تھی، اس کا ہر جزو، دہلی کی مساجد سے مختلف تھا۔ اندر داخل ہوا تو وسیع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ گیٹ پر عمومی اعلان ہو رہا تھا کہ جوتا اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ میں بھی جوتا اپنے ہاتھ میں لے کر اندر داخل ہوا۔

میزبانوں کی رہنمائی میں ہم لوگ آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک پہلی صف میں پہنچ گئے۔ اتنے میں ایک افریقی بزرگ نے جوتا میرے ہاتھ سے لے لیا۔ میں اس قسم کے تکلف سے گھبراتا ہوں ۔ کیوں کہ نماز کے بعد اگر وہ صاحب مجھے نہ ملیں تو دوسرے کے رکھے ہوئے سامان کو تلاش کرنا میرے لئے سخت مشکل ہو جائے گا۔ مگر جب میں نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو مذکورہ افریقی میرا جوتا لئے ہوئے میرے پیچھے موجود تھے۔

میں اگلی صف میں امام کے قریب تھا۔ سنت پڑھ کر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک گڑ گڑاہٹ کی آواز ہوئی ۔ میں نے سمجھا کہ مسجد کی چھت کے اوپر سے شاید کوئی ہیلی کاپٹر گزر رہا ہے۔ مگر دیکھا تو "دیوار" کے اندر سے ایک بہت بڑا لکڑی کا ڈھانچہ برآمد ہو رہا تھا۔ یہ منبر تھا۔ جو بھاری بھاری موٹی لکڑیوں سے منقش انداز میں بنایا گیا تھا۔ وہ ریل کے ڈبے کی طرح لکڑی کے پہیہ پر ہوتا ہے۔ اس کو دیوار کے پیچھے ایک مخصوص کمرہ میں ڈال دیا جاتا ہے اور خطبہ کے وقت کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو اس سے پہلے میں نے جامع قرویین میں دیکھا تھا۔

امام صاحب منبر پر بیٹھے تو حسب معمول مسجد کے اندر موذن نے کھڑے ہو کر دوسری اذان دی ۔ اذان ختم ہوئی ۔ میں آغاز خطبہ کا منتظر تھا۔ مگر میں نے دیکھا کہ امام صاحب بدستور بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اتنے میں مسجد کے ایک گوشہ سے "اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی ۔ میں متحیر تھا کہ یہ کیا ہے میرے ساتھی نے اپنے ہاتھ کی تین انگلیاں اٹھا کر اشارہ کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہاں خطبہ سے پہلے تین اذانیں دی جاتی ہیں۔ چنانچہ ایک کے بعد ایک تین اذانیں ہوئیں۔ اس کے بعد امام

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page