سفر نامہ - ۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۷
اسلامی مرکز کی مطبوعات ہدیہ ارسال کرنے کے لیے ہمیں دینی درسگاہوں، اردو لائبریریوں، اسکولوں اور کالجوں کے پتے مطلوب ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے علاقے میں واقع دینی مدارس اور دوسرے علمی اداروں کے پتے مختصر تعارف کے ساتھ ارسال فرمائیں۔ اگر اداروں کے ذمہ دار حضرات کو اس پہلو پر توجہ دلاکر ان کا مطبوعہ تعارف نامہ روانہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : الرسالہ مئی ۱۹۹۰ ہماری بستی کے قاری دلشاد احمد رحیمی لے کر آئے جو بیت العلوم پپلی مزرعہ) میں مدرس ہیں۔ موصوف نے مسجد میں تمام مقتدیوں کو کئی روز تک بعد نماز سنایا۔ اس کے مضامین سے دل بے چین ہوا اور سمجھا کہ الرسالہ سے وابستگی ایک دینی حمیت اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انشاء اللہ میں اس کو ضرور اپنے حلقہ احباب میں پہنچاؤں گا (عطاء الرحمن پر دھان، بیہٹ)، اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جو الرسالہ کا صرف ایک شمارہ دیکھ کر اس سے متاثر ہو گئے اور اس کو پڑھنے اور پڑھانے میں لگ گئے۔ ۱۳۔ مولانا خلیل احمد امین (ترکیسر) کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ وہ الرسالہ کے صبر و اعراض کے اصول سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں مسلسل لوگوں کو اس کی نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جو الرسالہ سے متفق ہو کر ان باتوں کو عوام کے اندر پھیلا رہے ہیں۔ والحمد للہ علی ذالک ۱۴ محمد نور عالم صاحب (سمستی پور) نے بتایا کہ وہ ایجنسی کے طور پر الرسالہ کی پانچ کاپی منگاتے ہیں ایک پرچہ اپنے پاس رکھ کر بقیہ چار پرچے لوگوں کو تقسیم کر دیتے ہیں، خواہ وہ قیمت دیں یا نہ دیں۔ بہت سے دوسرے لوگ بھی اسی طرح کر رہے ہیں۔
۱۵ ڈاکٹر عمر خالدی بوسطن (امریکہ) کی یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ آجکل وہ " ہندوستانی مسلمان اور سیاست" کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ ۸ اگست ۱۹۹۰ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues