سفر نامہ - ۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۶
لوگوں تک پہنچارہے ہیں۔
آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نے ۲۰ جون ۱۹۹۰ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا جو ایکسٹرنل سروسز سے نشر کیا گیا۔ یہ انٹرویو ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ انٹرویو آل انڈیا ریڈیو کے مسٹر مجیب صدیقی تھے۔ سوالات زیادہ تر برصغیر ہند کے مسلمانوں کے موجودہ مسائل سے متعلق تھے۔ اس انٹرویو کا ٹیپ مرکز میں موجود ہے۔
جناب حبیب بھائی (حیدر آباد) نے بتایا کہ ایک روز وہ الرسالہ ہاتھ میں لئے ہوئے اس کو پڑھ رہے تھے۔ ایک صاحب نے دیکھ کر پوچھا کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ الرسالہ کیا ہے۔ حبیب بھائی نے کہا کہ ”یہ مارل بلڈر ہے“ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کے قارئین الرسالہ کو کیا حیثیت دیتے ہیں۔
محمد ریاض الحنفی (نیو جرسی) ایک امریکی مسلمان ہیں۔ ان کی مادری زبان انگریزی ہے۔ انھوں نے اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں پڑھی ہیں اور انگریزی الرسالہ پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج ہم ایک ورلڈ آف لاجک میں رہ رہے ہیں۔ اور اسلامی مرکز کی مطبوعات اسی آج کی زبان میں اسلام کی دعوت کو پیش کرتی ہیں۔ مغربی دنیا کو آج ایسی ہی کتابوں کی ضرورت ہے۔ ”گاڈار اینڈ زہ“ کے بارہ میں انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: Before reading this book I knew that Islam was correct, but after reading I now know why Islam is correct. مولانا محمد شعیب کوٹی سعودی عرب سے لکھتے ہیں : میں کئی سال سے شرورہ میں ہوں۔ یہ سعودی عرب میں یمن کی سرحد پر واقع ایک شہر ہے۔ میں اپنے ذرائع سے الرسالہ کے اردو اور انگلش دونوں ایڈیشن حاصل کرتا ہوں ۔ یہاں شرورہ میں الرسالہ کے پڑھنے والوں کا حلقہ خاصا وقیع اور وسیع ہے۔ اس سے پہلے میں تبوک میں تھا تو وہاں بھی کئی حضرات سے الرسالہ کا تعارف ہوا۔ میں کوشش میں ہوں کہ پیغمبر انقلاب کا انگریزی ترجمہ اپنے ساتھ کام کرنے والے فلپینو حضرات کو مطالعہ کراؤں۔ اس سے پہلے وہ لوگ الرسالہ انگریزی کے کئی شماروں کا مطالعہ کر چکے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues