Al-Risala · December 1990 · page 54

کلمہ معرفت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۵۴

کلمہ معرفت

قل ما كنت بدعا من الرسل وما أدري کہو کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں ۔ اور میں نہیں ما يفعل بي ولا بكم ان اتبع الا ما جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے يوحي الي وما انا الا نذير مبين ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اس کا اتباع (الاحقاف (۹) کرتا ہوں جو میری طرف وحی کے ذریعہ آتا ہے۔

اور میں صرف یک کھلا ہوا آگاہ کرنے والا ہوں۔

یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ ایک واقعہ کے ذیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم، میں نہیں جانتا ، اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں ، کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ ( واللہ ما ادری و انا رسول اللہ ما يفعل بی ولا بکم، التفسير المظہرى ، ۳۹۶/۸) اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ کلمۂ عبدیت ہے نہ کہ کلمۂ آخرت ۔ یعنی یہ عبدیت کے احساس کے تحت نکلے ہوئے الفاظ ہیں ، یہ آخرت کے فیصلہ کا اعلان نہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے لیے اور اپنے تمام سچے بندوں کے لیے ۔ مغفرت کا اعلان فرمایا ہے۔ مگر ایک صاحب معرفت بندہ جب یہ سوچتا ہے کہ میں عاجز مطلق ہوں اور خدا قادر مطلق ہے ۔ اور آخرت کے فیصلہ کا اختیار ایک طرفہ طور پر صرف خدا کے ہاتھ میں ہے تو رحمت کے یقین کے باوجود وہ کانپ اٹھتا ہے۔ خدا کی عظمت کے احساس سے اس پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔

ایک طرف اس کو خدا کی رحمت کا یقین ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا کی پکڑ کا اندیشہ۔ یہ صورت حال اس کو امید اور خوف کے عین درمیان کھڑا کر دیتی ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے اس کو اپنا معاملہ بالکل ففٹی ففٹی (fifty-fifty) کا سا نظر آنے لگتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ " ما يفعل بي ولا بكم " معرفت کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ جس آدمی کو خدا کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی ، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر عظمت خداوندی کا احساس بڑھتا چلا جائے گا ۔ اور عظمت خداوندی کا حقیقی ادراک آدمی کی زبان سے جو کلمہ نکلواتا ہے وہ یہی کلمہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page