منصوبہ خداوندی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳
منصوبہ خداوندی
قرآن میں مومنین صالحین کو خیر البریہ کہا گیا ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کی جنت کا وعدہ کیا گیا ہے (البینہ) یہ کون لوگ ہیں جو اس عظیم فضل کے مستحق قرار پائیں گے۔ ایک لفظ میں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی صفت یہ ہوگی کہ وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ ان سے راضی ہوگیا (رضی اللہ عنہم ورضوا عنه) مومن کے اللہ سے راضی ہونے (ورضوا عنہ) کا ایک پہلو خالص شخصی ہے۔ یعنی اپنی ذات کے معاملہ میں اپنی پسند کو چھوڑ کر اللہ کی پسند کو اختیار کر لینا۔
اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جو دنیا میں اللہ کے منصوبہ کو جاری کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے ورضوانہ کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اپنے آپ کو اللہ کے منصوبہ میں شامل کریں۔ وہ اپنے جان و مال کو منصوبہ الہی کی تکمیل میں لگانے پر راضی ہو جائیں۔
اس معاملہ کی پہلی اور کامل مثال وہ ہے جو اصحاب رسول نے اپنی قربانیوں سے قائم کی۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اللہ کا خاص منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسا انقلاب لایا جائے جس کے بعد صرف عقیدہ توحید کو فکری عظمت حاصل رہے۔ دوسرے تمام عقیدے اور نظریے اپنا فکری جواز کھو دیں۔ یہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے : وقاتلوهم حتی لا تكون فتنة۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے عالمی سطح پر ایک عظیم انقلاب لانا تھا جو صرف عظیم قربانی ہی کے ذریعہ ممکن ہوسکتا تھا۔ صحابہ کرام نے پوری رضامندی کے ساتھ اپنے آپ کو اس منصوبہ الہی میں شامل کیا۔ اس میں وہ اس حد تک پورے اترے کہ ان کی زندگی ہی میں ان کے بارے میں اعلان کر دیا گیا کہ رضی اللہ عنہم۔
اس انقلاب کے مختلف پہلو تھے۔ اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ خدا کے دین کو ایک تاریخی واقعہ بنا دیا جائے ۔ اس سے پہلے ایک سو ہزار سے زیادہ پیغمبر آئے۔ مگر دین خداوندی ایک تسلیم شدہ واقعہ کی حیثیت سے تاریخ میں ریکارڈ نہ ہو سکا۔ صحابہ کرام نے اپنی قربانیوں سے دین خداوندی کو مرحلہ دعوت سے نکال کر مرحلہ انقلاب اور درجہ استحکام تک پہنچا دیا۔
آج دوبارہ اللہ تعالیٰ کا ایک منصوبہ ہے ۔ وہ دوبارہ تقاضا کر رہا ہے کہ اہل ایمان اپنے آپ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues