سبب یہاں ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۱
آج مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر دعوت ہی ایک ایسا کام ہے جس کا ان کے یہاں سرے سے کوئی وجود نہیں۔ اس معاملہ میں ان کی دوری کا یہ حال ہے کہ وہ دوسرے دوسرے کام کرتے ہیں اور اس پر دعوت کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ کوئی مسلمانوں کی اصلاح کے کام کو دعوت بتا رہا ہے کوئی اپنے قومی فخر کے اظہار کو دعوت کا نام دئے ہوئے ہے۔ کوئی دوسری قوموں سے قومی اور مادی جنگ لڑتا ہے اور اس کو دعوت کا عمل قرار دیتا ہے۔ کوئی شاعری اور خطابت کے مظاہرے کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ دعوت کا کام انجام دے رہا ہے۔ وغیرہ دعوت در اصل دعوت الی اللہ کا نام ہے۔ اس سے مراد وہ عمل ہے جس کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا ہے۔ یعنی اقوامِ عالم کو خدا کی مرضی سے آگاہ کرنا۔ انھیں آنے والے دن سے باخبر کرنا۔ انھیں خدا کے اُس منصوبہ کی اطلاع دینا جو خدا نے زندگی اور موت کے بارہ میں مقرر فرمایا ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ خدا کے بندوں کو جہنم کے راستہ سے ہٹا کر جنت کے راستہ پر لگانے کی کوشش کا نام دعوت ہے۔ دعوت کا یہ عمل ہمیشہ محبت کی زمین پر اگتا ہے۔ دعوت کا کام وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو انسانوں کے انجامِ آخرت کو سوچ کر تڑپ اٹھے ہوں اور انھیں خدا کی پکڑ سے بچانے کے لئے دیوانہ وار نکل پڑیں۔ مدعو کو محبوب بنائے بغیر کبھی دعوت کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے ذلت اور ہزیمت کا تجربہ ہوا۔ اس تجربے نے مسلمانوں کے دلوں میں دوسری قوموں کے لئے نفرت پیدا کر دی۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن یا حریف کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے لئے محبت کا موضوع نہ رہیں، وہ صرف نفرت کا موضوع بن کر رہ گئیں۔ یہی وہ اصل سبب ہے جس نے مسلمانوں سے داعیانہ جذبہ کو چھین لیا۔ اور ان کے درمیان دعوتی عمل کو زندہ ہونے نہیں دیا۔
دینِ رحمت کی پیغام رسانی کے لئے داعی کے اندر محبت و شفقت کا جذبہ ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ کوئی شخص ایسے لوگوں کے اوپر دعوت کے فرائض انجام نہیں دے سکتا جو اس کی نظر میں مبغوض بنے ہوئے ہوں۔ مسلمانوں نے دوسری قوموں سے نفرت کر کے اپنے اندر داعیانہ صلاحیت کھودی ہے۔ موجودہ حالت میں ان کا دعوت کا نام لینا صرف ایک مذاق ہے، وہ کسی سنجیدہ ارادہ کا اظہار نہیں۔ دعوت الی اللہ کی لازمی شرط صبر ہے۔ مسلمانوں کو داعی بننے کے لئے سب سے پہلے صابر بننا پڑے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues