سبب یہاں ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲
دوسری قوموں سے خواہ انہیں کتنی زیادہ ناخوشگواریکا تجربہ ہو۔ دوسری قوموں کی طرف سے انھیں خواہ کتنا ہی زیادہ مادی نقصان پہنچایا جائے۔ دوسری قوموں کی جانب سے خواہ انھیں کتنا ہی زیادہ اشتعال انگیزی کا تجربہ ہو، ان سب کے با وجود انھیں دوسری قوموں کا خیر خواہ بنے رہنا ہے۔ انھیں یک طرفہ طور پر تمام ناخوش گوار باتوں کو صبر کے خا میں ڈال دینا ہے۔
یک طرفہ صبر دعوت کے عمل کو انجام دینے کی لازمی شرط ہے۔ اس یک طرفہ صبر کے بغیر مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ دوسری قوموں پر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرسکیں۔ اور جب تک مسلمان اپنی دعوتی ذمہ داری کو انجام نہ دیں، ان کے حالات کبھی بدلنے والے نہیں۔ کوئی دوسرا عمل خواہ کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں کیا جائے، وہ ان کے احوال کو بدلنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
دعوت الی اللہ کی ذمہ داری اتنی سنگین ہے کہ اس میں معمولی کو تاہی بھی اللہ تعالی کے یہاں ناقابل قبول ہے، کجا کہ اس کو مستقل طور پر ترک کر دیا جائے۔
یہ معاملہ سید نا یونس علیہ السلام کی مثال سے بخوبی طور پر واضح ہے۔ حضرت یونس قدیم عراق (نینوا) میں دعوت توحید کے لئے بھیجے گئے۔ انھوں نے اہل نینوا کو دعوت دی۔ مگر ابھی دعوت کا عمل اپنی تکمیل (اتمام) حجت) تک نہیں پہنچا تھا کہ وہ قوم کو چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ اللہ تعالی کو ان کی یہ روش پسند نہیں آئی۔ ان کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا گیا۔ قرآن کا بیان ہے کہ اگر وہ اپنی کو تاہی کا اقرار کر کے دوبارہ اپنی مخاطب قوم کی طرف جانے کے لئے تیار نہ ہوتے تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہتے (الصافات ۱۴۴) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا معاملہ اس سے کہیں نہ زیادہ سنگین ہے۔ انھوں نے اپنی مدعو اقوام پر دعوت کا عمل سرے سے انجام نہیں دیا۔ بلکہ اپنی نفرت بڑھانے والی سرگرمیوں کے ذریعہ اس کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اس غفلت کے نتیجہ میں وہ خدا کی گرفت میں آگئے ہیں۔ وہ آج خدا کے عتاب کی زد میں ہیں۔ وہ تمام زیاد تیاں جن کا تجربہ انھیں دوسری قوموں کی طرف سے ہو رہا ہے اور جس کو وہ دوسری قوموں سے منسوب کرکے ان کے خلاف احتجاج یا ٹکر اؤ کر رہے ہیں، وہ سب یقینی طور پر خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ خدا کی تنبیہ ہے نہ کہ دوسری قوموں کا ظلم یا سازش۔
معاملہ کی اس نوعیت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ کیوں کہ ایک معاملہ جو خدا کی طرف سے ہو، اس کو آپ انسان کی طرف سے سمجھ لیں تو آپ اس سے خلاصی کی تدبیر کو بھی صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues