سبب یہاں ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اپنی آخری صورت میں عین وہی ہے جو اپنی ابتدائی صورت میں بلا تشبیہ حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آج دنیا بھر کے مسلمان "مسائل کے پیٹ" میں ہیں۔ ان کو مسائل کی عظیم مچھلی نے نگل رکھا ہے۔ ان کو فالقمہ الحوت کا تجربہ کرایا جا رہا ہے۔ مسلمان اس پیٹ سے ہرگز نکل نہیں سکتے جب تک وہ دعوت الی اللہ کے معاملہ میں اپنی کوتاہی کی تلافی نہ کریں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اس خدائی کام کے لئے اٹھیں اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ انجام دیں۔ وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک اقوام عالم پر خدا کی حجت پوری نہ ہو جائے۔
اگر مسلمانوں نے اپنی اس کوتاہی کی تلافی نہ کی تو وہ قیامت تک مسائل کے بطن (پیٹ) میں پڑے رہیں گے۔ کوئی دوسرا عمل ، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی اچھا ہو اور کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں کیا جائے ، انہیں اس گرفتاری سے نجات دینے والا نہیں۔ جب گرفتاری کے اس معاملہ کا سبب دعوتی کوتاہی ہے تو دوسرا عمل کیوں کر انہیں اس گرفتاری سے نکالنے والا بن سکتا ہے۔ دوڑنے والوں کو خدا کی طرف دوڑنا چاہئے۔ اگر وہ انسانوں کی طرف دوڑتے رہے تو وہ انسانوں کو بھی کھودیں گے ، اور خدا کو تو وہ پہلے ہی سے کھوئے ہوئے ہیں۔
حقیقت حج از: مولانا وحید الدین خاں حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے۔ حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ دوسری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں۔ جب کہ حج خود اللہ تعالی تک پہنچ جانا ہے۔ عام عبادت اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت کرنا ہے۔
(صفحات ۱۱۳ قیمت ۳۰ روپیہ ، مختصر صفحات ۴۸ قیمت ۵ روپیہ)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues