Al-Risala · February 1990 · page 8

بہتر حل

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۸

بہتر حل

۲ اکتوبر ۱۹۸۹ کو تامل ناڈو کے حکیم محمد صفدر شریف (۴۵ سال) سے ملاقات ہوئی: H.M. Safdar Shareef, 26, Nadeemullah Makkan Street, Salem-636001 انھوں نے سیلم پور کے ایک قصبہ تممم پٹی (Tammampatti) کا ایک واقعہ بتایا۔ یہاں کی آبادی ۱۰ ہزار ہے جس میں تقریباً ۵۰ فیصد مسلمان بستے ہیں۔ تم پٹی میں ۲۶ فروری ۱۹۸۹ کو ہندوؤں کا ایک مذہبی جلوس نکلا۔ یہ جلوس ایک مندر سے شروع ہو کر ایسی سڑک سے گزرنے والا تھا جس پر ایک مسجد واقع ہے۔ مسلمانوں کو اس روٹ پر اعتراض ہوا۔ انھوں نے کہا کہ جلوس میں باجا اور شور ہوگا۔ اس سے ہماری عبادت میں خلل پیدا ہو گا۔

اس موقع پر ایک ہیڈ کانسٹیبل مسلمانوں سے ملا۔ اس نے کہا کہ فریق ثانی کی طرف سے امن کو برہم کرنے کی پوری تیاری ہے۔ مگر اس کا حل یہ ہے کہ آپ لوگ بالکل خاموشی اختیار کر لیں۔ ہرگز کوئی مداخلت نہ کریں۔ اس کے بعد پولیس اپنے آپ ان سے نمٹ لے گی۔

مسلمانوں نے اس مشورہ کو مان لیا۔ انھوں نے مقررہ وقت پر مسجد میں اندر سے تالا لگایا اور نمازیوں سے کہہ دیا کہ آپ چپ چاپ اپنی نماز ادا کریں۔ جلوس وہاں رات کو عشاء کی نماز کے وقت پہنچا۔ وہ لوگ باجا بجاتے ہوئے اور نعرہ لگاتے ہوئے مسجد والی سڑک پر پہونچے۔ مسجد میں ان کی آوازیں آرہی تھیں۔ مگر مسلمانوں نے کوئی روک ٹوک نہ کی۔ اس وقت پولس سامنے آئی۔ اس نے جلوس والوں سے کہا کہ تم لوگ مسجد کے سامنے باجا نہ بجاؤ۔ اور چپ چاپ یہاں سے گزر جاؤ۔ مگر وہ لوگ نہیں ماننے۔ پولس نے پہلے آنسو گیس چھوڑا۔ مگر مجمع بہت بڑا تھا، قابو میں نہ آیا۔ اس کے بعد پولس نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے نتیجہ میں کئی لوگ زخمی ہوئے اور دو ہندو نوجوان مرگیے۔ اب جلوس منتشر ہو گیا۔

ایسے تمام مواقع پر یہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ ان مواقع پر مسلمان جب خود مداخلت کی کوشش کرتے ہیں تو مسئلہ ہندو۔ مسلم بن جاتا ہے۔ مسلمان اگر خاموش رہیں تو مسئلہ ہندو۔ پولیس رہے گا، اور پھر پولیس زیادہ بہتر طور پر وہ کام کر دے گی جس کو مسلمان صرف ناقص طور پر کرنا چاہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page