Al-Risala · February 1990 · page 9

بے خبری

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۹

بے خبری

اقبال کا ایک مشہور فارسی شعر ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ کا دین آدمی کو غار میں اور پہاڑی ویرانوں میں لے جاتا ہے۔ اس کے بربرعکس ہمارا دین اسلام ہم کو جنگ و شکوہ کا سبق دیتا ہے : مصلحت در دین عیسیٰ غار و کوه مصلحت در دین ما جنگ و شکوہ اقبال کا یہ شعر بتاتا ہے کہ وہ اپنے زمانے سے، کم از کم شعوری طور پر، بالکل بے خبر تھے۔ اقبال ۱۸۷۷ء میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۳۸ء میں ان کی وفات ہوئی۔ یہ پورا زمانہ وہ ہے جب کہ "عیسیٰ" کو ماننے والی قوموں نے صدیوں کی ترقیاتی کوششوں کے بعد اپنے آپ کو اتنا اونچا اٹھایا کہ وہ تقریباً دنیا پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر غالب آگئیں ۔ بالفاظ دیگر، انھوں نے دین اسلام کے پیروؤں کو " غار و کوہ " میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ اور خود " جنگ و شکوہ " کے ہر میدان میں مکمل برتری حاصل کرلی۔ اس واضح واقعہ کے باوجود اقبال اپنا مذکورہ بالا شعر کہتے ہیں، جو اصل صورت حال کے بالکل عکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شعر ماضی سے بھی بے خبری کا ثبوت ہے اور حال سے بے خبری کا بھی۔ مسیحی لوگ ابتدائی زمانہ میں اپنے مخالفین کی داروگیر سے بھاگ کر غاروں اور پہاڑوں میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وہ دور آیا جب کہ وہ دنیا کی سب سے زیادہ غالب قوم بن گئے۔ یہی واقعہ خود مسلمانوں کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمان اپنے دین کو لے کر پہاڑی گھاٹیوں میں چلے گئے ، اور ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد حالات بدلے اور مسلمان عالمی سطح پر غالب اور فاتح بن گئے۔

اقبال اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے صرف دور ثانی کو جانتے ہیں اور مسیحیوں کے صرف دور اول کو۔ ایسے بے خبر لوگ اگر اپنی قوم کو وقت کے مطابق صحیح رہنمائی نہ دے سکیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔

اس قسم کی رہنمائی صرف جھوٹا فخر دے سکتی ہے ، مگر جھوٹا فخر کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page