Al-Risala · December 1990 · page 22

English language material on Islamic studies.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲

کے غلبہ کو ختم کرنا ہے۔ مسلم رہنماؤں کی لڑائی کا تو یک طرفہ جانی و مالی نقصان کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں نکلا۔ البتہ دوسری عالمی جنگ نے ان مغربی قوموں کو اتنا کمزور کر دیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ سے اپنی فوجوں کو واپس بلالیں۔

اب مسلم ممالک مغرب کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہو گئے۔ اس کے بعد ان ملکوں میں مقامی حکومتیں قائم ہو گئیں ۔ ان حکومتوں کے تمام ذمہ دارانہ مناصب پر وہ مسلمان قابض تھے جنہوں نے مغربی ملکوں میں تعلیم پائی تھی اور مغربی کلچر کو اپنا رکھا تھا ۔ اب دوبارہ مسلم رہنما خود اپنے حکما رانوں سے لڑا گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ "مغرب زدہ" مسلمان ہمارے لیے سابق مغربی حکمراں سے بھی زیادہ برے ہیں۔ ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان کو اقتدار کی کرسیوں سے ہٹایا جائے۔ ورنہ یہ لوگ اسلام کا خاتمہ کر دیں گے اور آئندہ اسلام کے لئے کام کرنے کے مواقع باقی نہیں رہیں گے۔ یہ ناکام جنگ تادم تحریر کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ مگر کسی بھی ملک میں وہ تبدیلی اقتدار کے مرحلہ تک نہیں پہنچی۔

اسلامی رہنماؤں کی اس سیاسی ناکامی کے باوجود اسلام کا نظریاتی قافلہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے بلکہ وہ ہمیشہ سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ پیش قدمی کر رہا ہے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ بیسویں صدی کے نصف ثانی میں ہمیشہ سے زیادہ اسلامی لٹریچر شائع ہوا ہے۔ ہمیشہ سے زیادہ اسلامی ادارے ساری دنیا میں قائم ہوئے ہیں ۔ ہمیشہ سے زیادہ تعداد میں لوگ اسلام قبول کر کے اسلام کے حلقہ میں شامل ہو رہے ہیں ۔ وغیرہ اس قسم کے بے شمار واقعات بتاتے ہیں کہ سیاسی حالات خواہ کچھ ہوں، اسلام کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی طاقت دے دی ہے جو کسی بھی خارجی سبب سے ختم ہونے والی نہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خارجی حالات کی مساعدت یا نامساعدت سے بے پروا ہو کر اسلامی دعوت کے میدان میں سرگرم رہیں، وہ سیاسی دفاع کے بجائے ہمیشہ نظریاتی اقدام کے میدان میں اپنا جہاد جاری رکھیں۔

میسور کے سلطان ٹیپو انگریزوں سے لڑتے ہوئے ۱۷۹۹ء میں شہید ہو گئے۔ اقبال کے نزدیک یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ انھوں نے لکھا کہ ٹیپو ہماری ترکش کا آخری تیر تھا، جواب ہمارے پاس نہیں رہا: ترکش مرا خدنگ آخریں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page