خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۳
بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی کی عثماںی خلافت ٹوٹنے لگی تو تمام مسلمان گھبرا اٹھے۔ اس زمانہ کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی شبلی نعمانی کے اس شعر میں ملتی ہے: زوال دولت عثمان زوال شرع و ملت ہے عزیز و ونکه فرزند و عیال و خانماں کب تک مگر یہ مسلمانوں کے بکنے اور بولنے والوں کی کوتاہی تھی۔ انھوں نے اپنی کوتاہ فکری کی بنا پر اسلام کی طاقت کا کم تر اندازہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو کسی سلطان یاکسی سلطنت کی ضرورت نہیں۔ وہ خود اپنی طاقت سے زندہ رہتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ کسی کی موت یا کسی حکومت کا زوال اس کاراستہ روکنے والا نہیں ۔
خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں
اسلامی شریعت میں عورت کا مقام - اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے۔ عزت اور احترام کے جو احکام ایک صنف کے لئے ہیں وہی احکام دوسری صنف کے لئے بھی ہیں۔ دنیا کے حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت ۔ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں، تاہم فطری فرق کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے نہ کہ یکسانیت کار کا اصول ۔ (پیپر بیک ۴۰ روپیه صفحات ۲۸۰) 8-81-85063-81 ISBN مكتبہ الرساله سی-۲۹، نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی ۱۳ فون: 611128، 697333
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues