خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷
(The Daily Telegraph) ١١ مئی ١٩٩٠ء پڑھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ درج تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانیہ کے متمدن شہر ۴۸ قسم کی آوازوں کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ مثلاً سوتے وقت لوگوں کا خراٹے لینا ۔ وغیرہ۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مشہور گن فائٹر جان وسلی (John Wesley) ایک بار ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ملے ہوئے کمرہ سے خراٹے کی آواز آنے لگی۔ اس سے وہ اتنا بدحواس (upset) ہو اک وہ دیوار توڑ کر دوسرے کمرہ میں داخل ہوا اور اس آدمی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
ہیلتھ سروسز سٹاف کے ایک ذمہ دار پیٹر پیلیٹ (Peter pallot) نے لکھا ہے کہ ہماری آبادیوں میں روزانہ برپا ہونے والے ۴۸ قسم کے شور جو لوگوں کو پاگل بنا رہے ہیں، ان میں سب سے زیادہ برا شور کتوں کا بھونکنا ہے :
The sound of dogs barking is the worst of 48 everyday noises that drive people mad. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہذب ممالک اپنی ظاہری رونقوں کے باوجود کس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔ تاہم مجھے اس سے اتفاق نہیں کہ اس قسم کی باتوں کو لے کر یہ کہا جائے کہ اس کا حل اسلامی نظام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک یا دوسری قسم کے مسائل باقی رہیں گے۔ خواہ یہاں اسلامی نظام ہو یا غیر اسلامی نظام۔ مسائل اور مصائب سے خالی دنیا صرف آخرت میں ممکن ہے۔ اور ہم کو اسی کی طرف دعوت دینا چاہئے ۔
اسلامی قانون کا نفاذ حقیقتاً کسی معاشرہ کی اجتماعی اطاعت ہے، جس طرح عبادت ایک فرد کی انفرادی اطاعت ہوتی ہے۔ اسلامی قانون کے نفاذ کو مسائل سے آزاد دنیا کی تعمیر کا نام دینا صرف سطحییت ہے۔ مزید یہ کہ اس میں یہ اندیشہ ہے کہ کسی ملک میں اسلامی قانون کے نفاذ کے باوجود جب مسائل کا خاتمہ نہ ہو تو لوگ خود اسلام سے مایوس ہو جائیں یا اس کے بارے میں بری رائے قائم کرنے لگیں۔ مسائل کے حل کی بات جزئی طور پر صحیح ہوسکتی ہے۔ مگر وہ کلی طور پر درست نہیں۔
دکار سے جنیوا جاتے ہوئے جہاز میں میرے قریب ایک صاحب تھے۔ تعارف کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues