خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۴
نے خطبہ شروع کیا۔
خطبہ حسب معمول مقفّیٰ انداز میں تھا۔ اس کا قافیہ "" تھا۔ امام نے اپنی جیب سے ایک کاغذنکالا اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اس میں قافیہ کے مطابق اس طرح کے الفاظ تھے مثلاً سراً وعلناً ، ما بَعْدُ و ما دَتٰی۔ وغیرہ۔
نماز کے بعد باہر نکلے تو مانگنے والوں کی قطار تھی۔ بھیک مانگنے کا رواج ہندوستان ہی کی طرح سینیگال میں بھی پایا جاتا ہے۔ تاہم ہندوستان کے مقابلہ میں غالباً کم ہے۔ ۱۲ مئی کی صبح مجھے دکار سے واپس روانہ ہونا تھا۔ ہوٹل میں اپنے کمرہ کی کھڑکی کھول کر باہر کی طرف دیکھا تو سمندر اور آسمان اور اڑتی ہوئی چڑیوں اور سورج کی ہلکی روشنی کے مناظر تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے سمندر اپنی مسلسل اٹھتی ہوئی موجوں کے ساتھ اذ اذكر اللہ وجلت قلوبہم کی کیفیت تمثیل کر رہا ہے۔ چڑیاں حمدِ خداوندی کےنغمےبکھیرتی ہوئی فضا میں اڑ رہی ہیں۔ سورج اپنا آفاقی ٹارچ جلا رہا ہے تاکہ خدا کی نشانیوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئے ۔ ٹھنڈی ہواؤں میں ہلتے ہوئے درخت زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اگر خدا کے کرشموں (آلاء ) کو دیکھ کر تمہارے اندر تموج (thrill) پید انہیں ہوتا تو تم نے اس دنیا میں نہ کچھ دیکھا اور نہ اس دنیا میں کچھ پایا۔
اس دنیا کی ہر چیز حمدِ خداوندی کی تسبیح میں مشغول ہے۔ مسبحین کے اس عظیم اجتماع میں صرف ایک انسان ہے جورب العالمین کا تسبیح خواں نہ بن سکا۔ جو پتھر کی طرح سخت دل ثابت ہوا ، بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت۔
ہوٹل کے اس کمرہ میں میں ایک ہفتہ سے زیادہ مقیم رہا۔ آج جب اس کو چھوڑ کر باہر نکلتا تو خیال آیا کہ اسی طرح مجھے ایک روز موجودہ دنیا کو چھوڑنا نا ہو گا۔ آج میں منتظمین کا نفرنس کی مقرر کی ہوئی تاریخ کے تحت ہوٹل کا کمرہ چھوڑ رہا ہوں، کل خدا کی مقرر کی ہوئی تاریخ کی بنا پر مجھے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جانا ہوگا۔ کیسا عجیب ہے وہ وقت جو آچکا ، اور کیسا عجیب ہوگا وہ وقت جو آنے والا ہے۔
دکار سے جنیوا جاتے ہوئے راستہ میں لندن کا انگریزی اخبار ٹیلی گراف
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues