My faith was in the crew.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۹
ایک مسافر جو بچ گیا تھا ، اس نے اخباری نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھروسہ جہاز کے عملہ کے اوپر تھا :
My faith was in the crew.
ایک جہاز کے دو آدمی ایک طرح کے حالات میں پہنچ کر بالکل دو قسم کے تاثر کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک اپنے خدا کی طرف دیکھتا ہے، دوسرا، جہاز چلانے والے انسانوں کی طرف۔ یہ مشہور حدیث کے مطابق، غالباً تربیت کے فرق کا نتیجہ ہے۔ جس آدمی کی تربیت نے اس کے ذہن میں "مسیح“ کی اہمیت بٹھائی تھی، اس کے ذہن نے اس کو مسیح کی یاد دلائی، اور جس آدمی کی تربیت نے اس کے ذہن میں " عملہ “ کی اہمیت بٹھا رکھی تھی ، اس کے ذہن نے اسے بتایا کہ اس کو اس نازک موقع پر اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ جہاز کا عملہ ہے۔
ظہر اور عصر کی نماز جنیوا ائیر پورٹ پر پڑھی ۔ اس وقت میں ایئر پورٹ کے گیٹ نمبر ۲۴ پر اگلے جہاز کے انتظار میں بیٹھا ہو ہوں۔ میرے سامنے کھلے ہوئے میدان میں مختلف ہوائی کمپنیوں کے جہاز کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ تھوڑی تھوڑی دیر پر گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی جہاز ایئر پورٹ پر اترا ، یا کوئی جہاز یہاں سے روانہ ہوا۔ اسی طرح دنیا میں ہر وقت کوئی انسان آ رہا ہے ، اور کوئی یہاں سے رخصت ہورہا ہے۔ دنیا آنے اور جانے کی جگہ ہے ۔ بسنے اور آباد ہونے کی جگہ صرف وہ ہے جس کو آخرت کہا جاتا ہے۔ جنیوا سے فرینکفرٹ کے لئے سوئس ایئر ہم ۴۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں سوئس ایئر کا میگزین (Swissair Gazette) مئی ۱۹۹۰ کا شمارہ دیکھا۔ اس شمارہ میں مصر اور دریائے نیل کے بارہ میں ایک مفصل مضمون شامل تھا۔ قدیم مصر میں بتوں کی پرستش ہوتی تھی ، ان میں سے کچھ بتوں کی تصویریں اس میں دی گئی تھیں۔ ان تصویروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ قدیم مصر کے لوگوں نے بت تراشی میں غیر معمولی کمال حاصل کیا تھا۔
ایک بت کی تصویر کے نیچے با معنی طور پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ــــ فرعون کے زمانہ میں وہ پوجے جاتے تھے ۔ آج وہ ثقافتی ورثہ کا ایک حصہ ہیں :
In pharaonic times they were worshipped, today they are part of a cultural patrimony.
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues