Al-Risala · December 1990 · page 30

My faith was in the crew.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰

ان الفاظ کی پوری معنویت اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتی جب تک اس میں یہ اضافہ نہ کیا جائے کہ قدیم زمانہ میں شرک ساری دنیا میں تہذیبی طاقت بن کر چھایا ہوا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب نے اس مشرکانہ غلبہ کو ختم کر دیا۔ اگر یہ مشرکانہ غلبہ ختم نہ کیا جاتا تو دنیا میں کبھی وہ دور نہیں آ سکتا تھا جس کو آج سائنسی ترقی کا دور کہا جاتا ہے ( ملاحظہ ہو: اسلام دورِ جدید کا خالق )

فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر حفاظتی ہدایت (security advice) کے عنوان کے تحت دیواروں پر لکھا ہوا تھا کہ اپنے سامان کو رکھوالی کے بغیر نہ چھوڑیں: Do not leave your baggage unattended. اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہی معاملہ آدمی کو خود اپنے نفس کے ساتھ کرنا ہے۔ ہر آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کا نگراں بنا رہے۔ ورنہ اس کا نفس اس کو تباہی کے راستہ پر ڈال دے گا اور پھر کوئی چیز اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہ بن سکے گی۔ ۱۲ مئی کی شام کو فرینکفرٹ پہنچا۔ یہاں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ نصرت کا خصوصی معاملہ فرمایا۔ میرا اندازہ تھا کہ فرینکفرٹ میں چند گھنٹہ انتظار کے بعد مجھے اگلی فلائٹ دہلی کے لئے مل جائے گی۔ مگر یہ میرے اندازہ کی غلطی تھی۔ یہاں در اصل مجھے پندرہ گھنٹہ انتظار کرنا تھا۔ میں لفتھان کے کاؤنٹر پر گیا کہ آپ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس جرمنی کا ویزا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ جرمنی کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کے پاس ویزا ہوتا تو ہم شہر کے کسی ہوٹل میں آپ کے لئے ٹھہرنے کا انتظام کر دیتے۔ میں نے کہا کہ آپ میری مدد کریں کہ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔

کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی خاتون نے ٹیلی فون پر کسی سے بات کی۔ بات کرنے کے بعد کہا کہ آپ یہاں ٹھہرئیے ۔ ابھی ایک لیڈی آ رہی ہیں وہ آپ کو بتائیں گی۔ چند منٹ کے بعد ایک جرمن خاتون آگئیں ۔ ان کے ایک ہاتھ میں کمبل تھا اور دوسرے ہاتھ میں ٹرے جس میں کھانے پینے کا سامان تھا۔ انھوں نے کہا کہ آپ شہر میں تو داخل نہیں ہو سکتے۔ یہاں ایئر پورٹ کے لاؤنج میں ٹھہرئیے ۔ یہ آپ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page