Otherwise I have no job.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳
لئے ان کا ایمان ایک بے روح ایمان بن کر رہ گیا۔ اور بے روح ایمان اسی طرح اخلاقیات کو پیدا کرنے سے عاجز رہتا ہے جس طرح بنجر زمین، لہلہاتی ہوئی فصل اگانے سے۔
ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں میری کرسی کے قریب دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ایک شخص امریکی لہجے میں بول رہا تھا۔ دوسرا کسی اور لہجے میں۔ امریکی مسافر کسی تعلیمی ادارہ میں تھا اور بتا رہا تھا کہ میں اکثر کانفرنسوں میں جاتا رہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں کارروائیاں کرتا ہوں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو میرے پاس کانفرنسوں کے دعوت نامے نہیں آئیں گے۔ پھر میں کیا کروں گا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کے بعد تو میرے پاس کرنے کا کوئی کام ہی نہ ہوگا :
Otherwise I have no job.
عین یہی معاملہ زیادہ بری شکل میں ہمارے لیڈروں کا ہے۔ وہ ایک نہ ایک جھگڑے کا اُشو کھڑا کرتے رہتے ہیں۔ کوئی مذہبی جھگڑا کرتا ہے، کوئی قومی جھگڑا، اور کوئی سیاسی جھگڑا۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر جھگڑے کا ماحول نہ ہو تو وہ بے روزگار (jobless) ہو جائیں گے۔ فرینکفرٹ میں ایک بہت بڑا تجارتی ادارہ ” بزنس انفارمیشن سروس“ کے نام سے قائم ہے۔ اس کا صدر دفتر ایئر پورٹ سنٹر کی نویں منزل پر ہے، اور اس کی شاخیں ساری دنیا میں قائم ہیں۔
فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر اس تجارتی ادارہ کا ایک شاندار اشتہار تھا۔ اس میں یہ بتاتے ہوئے کہ ہم آپ کے بہترین تجارتی مشیر ہیں، یہ کہا گیا تھا کہ فلاں فلاں نمبر پر آپ ہم کو ٹیلی فون کر دیں، ہم خود آکر آپ کو اپنے مرکز میں لے جائیں گے :
Please call us... We will come to accompany you.
یہ دیکھ کر خیال آیا کہ کاش اسی طرح اسلامی دعوت کے مراکز جگہ جگہ قائم ہوتے اور ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا جاتا کہ ــــــــ آپ ہم کو مطلع کریں ، ہمارے آدمی آپ کو اپنے ساتھ مرکز میں لائیں گے۔ تاکہ آپ یہاں آکر اسلام کا مطالعہ کر سکیں۔
فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر فنانشیل ٹائمر (۱۲ مئی (۱۹۹۰) پڑھا۔ اس میں ایک رپورٹ ٹیکس کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues