Al-Risala · December 1990 · page 32

My faith was in the crew.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۲

کر رکھا ہے۔ یہ بلا شبہ ایک لغو بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب اپنی اخلاقی طاقت کے بل پر قائم ہے۔ اس کے برعکس مسلمان اپنے اخلاقی زوال کی بنا پر موجودہ زمانہ میں اپنی جگہ حاصل نہ کر سکے۔ قوموں کے عروج و زوال میں جو چیز فیصلہ کن ہے وہ اخلاق ہے نہ کہ سازش اور دسیسہ کاری۔ سفر میرے لئے تجرباتی مطالعہ کے ہم معنی ہے۔ ہر سفر میں کچھ نئی باتیں دریافت ہوتی ہیں۔ موجودہ سفر میں جو نئی باتیں سمجھ میں آئیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مغربی قوموں کی اخلاقیات کا راز کیا ہے۔ یہ سوال بہت عرصہ سے کیا جاتا رہا ہے کہ مشرقی قوموں کے مقابلہ میں مغربی قوموں میں جو بلند اخلاقی پائی جاتی ہے ، اس کا راز کیا ہے۔

اس کا راز نہایت سادہ ہے اور وہ تجارت ہے۔ مثلاً مذکورہ واقعہ میں لفتھانسا ہوائی کمپنی اور اسلامی تعلیمی ادارہ میں اخلاقیات کا فرق کیوں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ لفتھانا ایک تجارتی ادارہ ہے اور مذکورہ اسلامی ادارہ (دوسرے تمام اسلامی اداروں کی طرح) ایک ایسا ادارہ جو چندہ اور تبرعات پر چلتا ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ تجارت سے کردار پیدا ہوتا ہے اور چندہ سے بے کرداری۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان بحیثیت قوم تجارت میں داخل نہ ہو سکے۔ اس لئے ان کے اندر وہ کردار بھی پیدا نہ ہو سکا جو ایک تاجر کے اندر لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ فرق چھوٹے پیمانہ پر ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ ہندو ایک تاجر قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں تاجر قوم نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں میں نسبتاً کردار ہے ، جب کہ مسلمان ان کے مقابلہ میں کردار سے خالی ہیں۔

یہ فرق یورپ میں بہت زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ہندو صرف ابتدائی درجہ کے تاجر ہیں۔ اس لئے ان میں ابتدائی درجہ کی اخلاقیات پائی جاتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مغربی قو میں (اور جاپان) زیادہ بڑے درجہ کے تاجر ہیں۔ تجارت میں وہ تمام قوموں سے بہت زیادہ آگے جا چکے ہیں۔ اس لئے ان میں کردار کی طاقت بہت بڑے پیمانہ پر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں میں کردار پیدا کرنے کے لئے ان کا ایمان کافی تھا۔ مگر موجودہ مسلمان ایک زوال یافتہ قوم ہیں۔ ان کے اندر وہ زندگی نہیں جو جاندار قوموں میں ہوتی ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page