Al-Risala · December 1990 · page 41

محتسب اقوام یا خیر خواہ اقوام

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۱

قرآنی تدبیر از مولانا محمد منظور نعمانی قرآن پاک کی ایک ہدایت ہے کہ جب کوئی تم سے برسر پیکور ہو اور تمہارے ساتھ برے طریقے سے پیش آئے تو تم اس کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرو اور خوب صورت طریقے پر اس کی بات کا جواب دو، اگر تم نے ایسا کیا تو جلد ہی دیکھ لو گے کہ دشمن تمہارا دلی دوست بن جائے گا۔

آگے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اس کی توفیق صرف ان خوش نصیبوں کو ہو گی جو برداشت کی صفت یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوں گے۔

یہ قرآن مجید کی آیت کا حاصل اور گویا لفظی ترجمہ ہے یقین ہے کہ جس کسی بندے نے بھی اس کی ہدایت پر عمل کیا ہو گا اس کو ضرور اس نتیجہ کا بھی تجربہ ہوا ہو گا جو قرآن مجید نے بتلایا ہے۔ ناچیز راقم سطور کا اعتراف ہے کہ اپنے مزاج کی فطری حدت یعنی تیزی اور نفس پر قابو نہ ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی اس زریں ہدایت و تعلیم پر عمل کی توفیق بہت ہی کم نصیب ہوئی ہے لیکن جب کبھی اللہ کی توفیق سے اس پر عمل نصیب ہو گیا تو اسی وقت کھلی آنکھوں وہ نتیجہ دیکھ لیا جس کا وعدہ قرآن پاک کی اس آیت میں کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ کا اپنا ایک تجربہ میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اگست ۱۷۴۵ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ یاد رہے کہ رمضان المبارک کی ۱۸ تاریخ تھی۔ ناچیز راقم سطور کو ۱۴- ۱۵ ساتھیوں کے ساتھ لکھنو سے دلی جانا تھا۔

یہاں یہ بات بھی یاد کر لی جائے کہ یہ وقت وہ تھا جب کہ ہندوستان میں ہندو مسلم کشیدگی آخری حد تک پہنچ چکی تھی۔ کلکتہ نواکھالی اور بہار وغیرہ میں بڑے بڑےمہیب فساد ہو چکے تھے۔ اور بس ایک ہفتہ کے بعد ۱۵ اگست کو ملک کی باقاعدہ تقسیم عمل میں آنے والی تھی۔ اب تو ماشاء اللہ لکھنو اور دہلی کے درمیان براہ راست ۳، ۴ ٹرینیں چلتی ہیں اس وقت ایک ٹرین بھی لکھنو سے دہلی براہ راست نہیں جاتی تھی۔ کانپور، مراد آباد تبدیل کرنی پڑتی تھی۔ ہم نے براہ مراد آباد وغیرہ ایکسپریں سے سفر طے کیا۔ لکھنو سے اس کی روانگی کا وقت اس وقت بھی وہی تھا جو آج ہے یعنی تقریباً ۹ بجے شام۔ اپنے سفری تجربہ کی بنا پر مجھے سب سے آگے والے ڈبہ میں جگہ ملنے کی زیادہ امید تھی۔ اس لئے ہم لوگ وہاں کھڑے ہو گئے جہاں اس ڈبہ کے پہنچنے کی توقع تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page