Al-Risala · December 1990 · page 42

محتسب اقوام یا خیر خواہ اقوام

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲

اور ساتھیوں میں سے چند کو مقرر کر دیا کہ ٹرین جیسے ہی آکر رکے وہ مستعدی سے ڈبہ میں گھسنے کی کوشش کریں۔ اور جو جگہ بھی خالی نظر آئے اس کو ساتھیوں کے لئے گھیر لیں۔ اس کی تاکید کر دی گئی کہ کسی کو اید ان پہنے اور جھگڑا نہ ہو۔ ٹرین آکر رکی۔ جیسا کہ میرا اندازہ تھا اگلے ڈبہ سے مسافروں کی خاصی تعداد اتری اور کافی جگہ خالی ہوئی ۔ ہمارے وہ چند ساتھی قرار داد کے مطابق پھرتی سے ڈبے کے اندر پہنچ گئے اور خالی شدہ سیٹوں پر اپنے کپڑے بچھا کر جگہ محفوظ کر لی اور دوسرے ساتھی بھی اندر داخل ہو گئے ۔ میں بھی پہنچ گیا ۔ ایک سیٹ پر ایک ساتھی نے کپڑا بچھا دیا تھا۔ میں اسی کپڑے پر جا کر بیٹھ گیا۔ میرے برابر میں ایک اور ساتھی بیٹھ گئے۔ ایک پنڈت جی جو اسی ٹرین میں صوبہ بہار کے کسی مقام سے آرہے تھے، اوپر بیٹھے ہوئے تھے. غالباً کسی ضرورت سے نیچے آئے وہ اندر آئے۔ زبان سے کوئی بات کہنے کے بجائے انھوں نے انتہائی اشتعال انگیز طریقہ پر ایک ہاتھ سے میرا بازو پورے زور سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے میرے دوسرے ساتھی کا۔ اس جگہ سے ہمیں اٹھانا چاہا۔ انھیں غالباً یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہم لوگ اتنی تعداد میں ہیں۔ جیسے ہی انھوں نے یہ حرکت شروع کی میرے بعض ساتھیوں نے بڑھ کر انھیں پکڑ لینے کا ارادہ کیا۔ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے ڈانٹ کر کہا کہ ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھے اور بالکل خاموش بیٹھے ۔ اگر کچھ بات کرنے کی ضرورت ہوگی تو میں خود کر لوں گا۔ اس کے بعد میں نے ان پنڈت جی سے نرمی سے کہا کہ آپ زبان سے فرمائیے کہ کیا بات ہے اور آپ کیا چاہتے ہیں۔ انھوں نے نہایت غصے کے ساتھ کہا آپ لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہیں، یہ میری جگہ ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ بھائی یہ بات تو آپ سہولیت سے بھی کہہ سکتے تھے ۔ آپ نیچے اتر گئے تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے یہ جگہ خالی دیکھی تو انھوں نے کپڑا بچھا دیا اور میں آکر یہاں بیٹھ گیا۔ اگر آپ سیدھے طریقے سے یہ فرما دیتے کہ یہ جگہ آپ کی ہے، یہاں آپ بیٹھے تھے تو یہ آپ ہی کی جگہ ہے۔ آپ یہاں بیٹھ جائیے۔ میں نے یہ کہہ کر وہ جگہ خالی کر دی ۔ پنڈت جی کے اس رویے پر میرے بعض ساتھیوں کو پھر گرمی آنے لگی۔ تو میں نے ان سے کہا۔

آپ لوگوں میں سے کسی کو بولنے کا حق نہیں۔ جب یہ اس جگہ پر پہلے سے بیٹھے تھے تو انہیں کی جگہ ہے۔ بات ختم ہو گئی اور میں نے پنڈت جی کا ہاتھ پکڑ کر اس جگہ پر ان کو بٹھا دیا ۔ اور ساتھیوں کے ذہن کو دوسری طرف موڑنے کے لئے بحیثیت امیر قافلہ سفر کے اصول و آداب اور دعا اور وغیرہ کے بارے میں کچھ ہدایتیں دینا شروع کر دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page