طاقت کا خزانہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۷
طاقت کا خزانہ
انسانی دماغ ایک نا قابل یقین نظام ہے۔ اس کی جسامت ایک سنگترہ سے بھی کم ہوتی ہے۔ مگر وہ ایک سیکنڈ میں ۸۰۰ یادداشتیں ریکارڈ کر لیتا ہے۔ وہ اوسطاً ۷۵ سال تک برابر یہ کام جاری رکھ سکتا ہے۔
انسانی دماغ میں جو بات بھی پڑتی ہے، وہ پوری طرح اس کو محفوظ کر لیتا ہے، اور پھر کبھی اس کے کسی جزء کو فراموش نہیں کرتا۔ خواہ ہم ان تمام معلومات کو شعوری طور پر یاد میں نہ لاسکیں ۔ تاہم ہمارے دماغ کے مستقل فائل میں ہر چیز ہر وقت موجود رہتی ہے۔ اگر ایک ایسا کمپیوٹر بنایا جائے جس کے امکانات انسانی دماغ کے برابر ہوں تو اس کا انفراسٹرکچر اتنا زیادہ ہو گا کہ وہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی عمارت کو گھیر لے گا۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ نیویارک میں ہے اس کی ۱۰۲ منزلیں ہیں اور اس کی اونچائی ۱۲۵۰ فٹ ہے۔ ایسا سپر کمپیوٹر اگر بنایا جا سکے تو اس کو چلانے کے لیے ایک ارب واٹ بجلی کی توانائی درکار ہوگی۔ اس کی لاگت اتنی زیادہ ہوگی جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے :
The brain is a fabulous mechanism. About the size of half a grapefruit, it can record 800 memories a second for the average 75 years many of us live, without exhausting itself. The human brain retains everything it takes in and never forgets anything. Even though we don't recall all the information received, everything is on permanent file in our brain. If a computer to match the brain's potential was built, it would occupy space comparable to the size of the Empire State Building (1,250 feet tall) and need 1,000,000,000 watts of electrical power to run. The cost would be equally immense. The mind is one of God's most amazing gifts to man. Yet most people use only a small fraction of their mental abili- ty. For many, the power remains largely untapped. The Plain Truth, October 1988, p. 29. یہ دماغ انسان کے لیے اللہ کا ایک انتہائی حیرت ناک تحفہ ہے۔ تاہم بڑے سے بڑا سائنس داں بھی اس کو صرف جزئی طور پر استعمال کر پاتا ہے۔ دماغ کے تمام اعلیٰ امکانات ابھی تک غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues