Our wondrous Brain
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸
امریکی میگزین اسپان (Span) کے شمارہ ستمبر ۱۹۸۹ میں ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ۔ ۔۔۔۔ ہمارا حیرت ناک دماغ :
Our wondrous Brain
اس مضمون کے مرتب یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینیر ایڈیٹر مسٹر ولیم ایف آل مین (William F. Allman) ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دماغی تحقیق کا کام موجودہ زمانہ میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب اس کی ایک علیحدہ علمی شاخ وجود میں آچکی ہے جس کو دماغ کی سائنس (Brain science) کہا جاتا ہے۔ اس سائنس کے تحت جو بے شمار نئی معلومات سامنے آئی ہیں وہ ایک قسم کے انفجار کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ایک سائنس داں نے دماغ کو فکری انجن (Engine of thought) سے تعبیر کیا ہے۔ حالانکہ یہ تعبیر بے حد ناقص ہے ۔ کیونکہ دماغ کے ایک لاکھ ملین نیوران (100,000 million neurons) جس طرح متحدہ طور پر کام کرتے ہیں، اور ایک لمحہ کے اندر اشیاء کے مابین تمیز کر لیتے ہیں، وہ کوئی بڑی سے بڑی امکانی مشین بھی نہیں کر سکتی۔ اپنی حیرت ناک کارکردگی کے اعتبار سے ایک فرد واحد کا دماغ دنیا کی تمام مشینوں اور تمام کمپیوٹروں پر بھاری ہے :
An explosion of recent findings in brain science — aided by new computer programs that can simulate brain cells in action — is now revealing that the brain is far more intricate than any mechanical device imaginable (p. 24). اس سلسلہ میں جدید تحقیقات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اگرچہ بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے اس بات کی کافی کوشش کی کہ وہ ایسی مشینیں بنائیں جو انسانی دماغ جیسا کام کر سکیں۔ مگر انتہائی طاقتور قسم کا سپر کمپیوٹر بھی ابھی تک انسانی دماغ سے بہت پیچھے ہے : Though 20th-century scientists have tried to make machines that mimic the brain’s functioning, even the most powerful supercomputer falls far short of the real thing (p. 28). انسانی دماغ طاقت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ یہ خزانہ ہر آدمی کو پیدائشی طور پر حاصل ہے۔ وہ کسب اور
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues