Al-Risala · January 1990 · page 5

دے کر پانا

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۵

کے بعد یہودی نے اسلام قبول کر لیا اور زرہ یہ کہہ کر حضرت علیؓ کو دے دی کہ یہ آپ ہی کی ہے، پ کا دعوی بالکل درست تھا (کنز العمال)

۳۔ بنوامیہ کے زمانہ میں دمشق کی جامع مسجد بنائی گئی ۔ مسجد کے ایک طرف ایک قدیم گرجا تھا۔ مسلمانوں نے چاہا کہ گرجا کا ایک حصہ مسجد میں شامل کر لیا جائے۔ مگر عیسائی اس کے لیے راضی نہ ہوئے۔ خلیفہ عبد الملک نے اس کے لیے عیسائیوں کو ایک معقول رقم کی پیش کش کی پھر بھی وہ راضی نہ ہوئے۔ چنانچہ ابتدائی تعمیر میں مسجد کا ایک گوشہ ناقص رہا۔

اس کے بعد ولید بن عبد الملک کا زمانہ آیا تو اس نے بھی مسجد کی تکمیل کے لیے عیسائیوں کو راضی کرنا چاہا مگر عیسائی دوبارہ راضی نہیں ہوئے۔ ولید بن عبد الملک نے اس زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا اور اس کو مسجد میں شامل کرکے اس کی تعمیر مکمل کر دی ۔ اس کے کئی سال بعد حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے ۔ ان کے عدل وانصاف کی شہرت پھیلی تو عیسائیوں نے دوبارہ ان سے مل کر اپنی سابقہ شکایت کو پیش کیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کو سن کر حکم دے دیا کہ گرجا کی زمین کا جو حصہ مسجد میں شامل کیا گیا ہے اس کو توڑ کر عیسائیوں کے حوالہ کر دیا جائے۔ مسلمانوں کو یہ بات بے حد شاق گزری۔ انھوں نے کہا کہ کیا ہم اپنی مسجد کو گرا دیں، حالاں کہ ہم ہیں۔ اس میں اذانیں دی ہیں اور نمازیں ادا کی ہیں : (نھدم مسجدنا اذ نافيه وصلینا) حضرت عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا کہ خواہ کچھ ہو، یہ زمین اگر مسیحی عبادت خانہ کی تھی تو وہ مسیحیوں کو واپس کی جائے گی ۔

مسیحیوں نے جب خلیفہ کے اس فیصلہ کو سنا تو وہ بے حد متاثر ہوئے ۔ اب ان کا ذہن بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا ، ہم کو اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ اب ہم اس زمین کو اپنی طرف سے بطور ہدیہ مسجد کو دیتے ہیں (تاریخ بلاذری)

اس دنیا میں دینے والا پاتا ہے ۔ اور جو شخص صرف پانا چاہے ، وہ کھوتا ہے ۔ یہ اس کا اٹل قانون ہے ۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page