Al-Risala · January 1990 · page 6

قرآن کی طابقت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۶

قرآن کی طابقت

ڈاکٹر ذاکر حسین (۱۹۶۹ - ۱۸۹۷ء) جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے معماروں میں سے تھے ۔ آخر میں وہ ہندوستان کے صدر جمہوریہ بنائے گئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے انتقال کیا۔ انہوں۔ ریڈیو پر بہت سی تقریریں کی تھیں۔ ایک تقریر میں انہوں نے اپنے ایک ابتدائی استاد کا ذکر ان الفاظ میں کیا :

" خدا بخشے علی گڑھ کے مشہور استاد مولوی عباس حسین صاحب کو ۔ فرمایا کرتے تھے کہ جب ان قرأت قرآن کا فن ختم ہو گیا۔ میرے اپنے استاد مرحوم (جن سے میں نے قرأت سیکھی، وہ اس 2 آخری جاننے والوں میں سے تھے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر " ق " کا صحیح تلفظ مٹکے کے اندر کر دوں مٹکا پھٹ جائے ! (بچوں کی تربیت ، نیا کتاب گھر لاہور، صفحہ ۹۵)

کیسی عجیب بات ہے کہ وہ قرآن جس کے اندر پہاڑوں کو ہلا دینے کی طاقت تھی یا اشترا جس کو سن کر کتنے لوگوں کے سینے شق ہو گئے (مثلاً عمر فاروق )، وہ بالآخر ایک ایسے فن تک جا پہونچ بس مٹی کا ایک " مٹکا " توڑ سکتا تھا ۔ اور اب یہ حال ہے کہ وہ کاغذ کے صفحات میں چھپا ہوا پڑ ہے ، اور اس کے اندر کسی بھی چیز کو توڑنے کی صلاحیت نہیں ۔ حتیٰ کہ اغیار یہ کہنے لگے ہیں کہ قرآن ا ایک ختم شدہ طاقت (Spent force) ہے، اب وہ کوئی کارنامہ انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور نہ اس کے ذریعے سے دنیا میں کوئی انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔

یہ حالت اس لیے نہیں ہے کہ خدا نخواستہ قرآن میں کوئی کمی واقع ہوگئی ہے۔ قرآن میں آج بھی تسخیری قوت ہے۔ آج بھی وہ انہیں طاقتوں کا خزانہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے جس کا اظہار اس کے نزول کے ابتدائی زمانہ میں ہوا تھا۔ البتہ قرآن کے حاملین اس محفوظ خزانہ کو حاصل کر کے اس کو باہر دنیا میں لانے کے قابل نہ رہے ۔

قرآن کی لفظی قرأت اگر مٹکا توڑ سکتی ہے تو اس کا معنوی اظہار دلوں اور دماغوں میں زلزلہ پیدا کر سکتا ہے ۔ مگر اصل کمی یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں قرآن کے معنوی اظہار کے لیے کوئی حقیقی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ موجودہ زمانہ میں قرآن کا یہ پہلو ابھی تک غیر اظہار شدہ پڑا ہوا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page