اسلام کی اثرانگیزی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۳
اسلام کی اثرانگیزی
شیخ محمد بدالاسلام فضلی بی اے، بی ٹی (علیگ)، ہندوستان سے جاپان گئے۔ انگریزی دور کی ہندوستانی حکومت نے ان کا تقرر ٹوکیو کے اسکول آف فارن لینگویجز میں کیا تھا۔ وہ وہاں اردو اور فارسی کے استاد کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
مسٹر فضلی دسمبر ۱۹۳۰ میں سمندری جہاز سے جاپان پہنچے۔ وہ اپریل ۱۹۳۲ تک وہاں مقیم رہے۔ جاپان کے حالات اور اپنے سفر کی رو داد پر انھوں نے اسی زمانہ میں ایک کتاب "سیاحت جاپان" لکھی تھی۔ یہ کتاب چار سو صفحات پر مشتمل ہے اور ۱۹۳۴ میں انجمن ترقی اردو اورنگ آباد (دکن) سے شائع ہوئی تھی ۔ مطبع کا نام کتاب پر جامع برقی پریس دہلی" لکھا ہوا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں جو واقعات نقل کیے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ انسائیکلو پیڈیا میں اسلام پر مقالہ لکھنے کے لیے ایک جاپانی فاضل نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ اس سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ یہاں ان کے اپنے الفاظ نقل کیے جاتے ہیں: "جمعہ کے روز نماز کے لیے مسجد گیا۔ ۵۰ نمازی جمع ہوئے ۔ ہر شخص ہیٹ کے نیچے ایک گول مخمل کی ٹوپی پہن کر آیا تھا ۔ نیچے کی منزل میں اور زینہ پر بہت سی کھونٹیاں دیوار پر لگی ہوئی ہیں۔ ہیٹ ان پر ٹانگ دی اور گول ٹوپی پہن کر اوپر کے ہال میں جہاں نماز ہوتی ہے، جمع ہوئے۔ جمع ہوئے بھن لوگوں نے نیچے کی منزل میں وضو بھی کیا۔
نماز کے بعد تمام نمازیوں سے مصافحہ ہوا۔ یہیں ایک جاپانی صاحب سے بھی تعارف ہوا۔ یہ بھی نماز میں شریک تھے۔ ایک روسی مسلمان مسٹر صابر جمیل نے مجھ کو اور جاپانی مسلمان صاحب کو جن کا نام مسٹر سبورو تھا ۔ اسی وقت چائے نوشی کی دعوت دی۔ صابر صاحب مسجد کے قریب ہی ایک چھوٹے سے خوبصورت مکان میں رہتے ہیں ۔ ان کی اہلیہ محترمہ عائشہ نے مہمانوں کی بڑی خاطر مدارات کی۔ مسٹر سبورو سے اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی ۔ میں نے دریافت کیا کہ اسلام کی کس خوبی نے آپ کو اس طرف مائل کیا۔ انھوں نے بیان کیا کہ ان سے جاپانی انسائیکلو پیڈیا میں اسلام کے متعلق آرٹیکل لکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ مطالعہ اور تحقیق کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues