اسلام کی اثرانگیزی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۴
خود بخود اسلام کی حقانیت ان پر روشن ہو گئی۔ اور بغیر کسی خارجی تحریک کے مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کی بے شمار خوبیاں ہیں۔ مگر دو خوبیوں نے خصوصاً ان پر بڑا اثر کیا۔ اول توحید اور ثانیاً مذہبی رواداری۔ مسٹر سبورو ٹوکیو میں تنہا جاپانی مسلمان ہیں۔ ان کے علاوہ تمام جاپان میں معدودے چند جاپانی مسلمان ہیں:۔ سیاحت جاپان، صفحہ ۱۲- ۱۱۱ ماضی اور حال کی تاریخ میں اس طرح کے واقعات کثرت سے پائے جاتے ہیں جب کہ کسی آدمی نے اتفاقاً کسی اور مقصد کے تحت اسلام کی کتابوں کو پڑھا۔ پڑھنے سے پہلے وہ سمجھتا تھا کہ وہ صرف معلومات کے لیے اسلام کو پڑھ رہا ہے۔ مگر جب اس نے اسلام کو پڑھا تو وہ اس سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اس نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کامل معنوں میں ایک فطری مذہب ہے۔ انسان کی فطرت میں جو احساسات غیر ملفوظ حالت میں چھپے ہوئے ہیں، اسلام انھیں احساسات کو ملفوظ حالت میں بیان کرتا ہے۔ اسلام ہر آدمی کے اپنے دل کی آواز ہے۔
چنانچہ جب کوئی شخص اسلام کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر محسوس کرتا ہے کہ وہ خود اپنے دل کی کتاب کو پڑھ رہا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ جس اسلام کو اس نے صرف پڑھا تھا، اس کو وہ عملاً بھی اختیار کرلے۔ اسلام کو جان لینے کے بعد اس کو نہ ماننا خود اپنا انکار بن جاتا ہے ، اور کون ہے جو خود اپنا انکار کرنے کا تحمل کر سکے۔ زیر طبع کتا بیں راہِ عمل صفحات ۱۵۲ عقلياتِ اسلام صفحات ۱۴۰
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues