Al-Risala · February 1990 · page 30

رحمت للعالمين

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰

انہوں نے بتایا کہ سری لنکا ر یڈیو میں مسلم سیکشن " کے نام سے ایک مستقل شعبہ ہے۔ اس کے تحت ریڈیو سیلون پر روزانہ دو گھنٹہ کے لئے اسلامی پروگرام ہوتے ہیں۔ میں خود ہر جمعہ کو ریڈیو میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں تقریر کرتا ہوں۔ ہمارے یہاں کثرت سے مسلم اسکول ہیں۔ مسلم معاملات کے لئے باقاعدہ " قاضی " مقرر ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔

میں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان آزاد مسلم لینڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔ آزاد لینڈ کا مطالبہ تامل لوگوں کا ہے نہ کہ مسلمانوں کا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان شمالی ہند میں اسلام سلاطین کے ذریعہ آیا۔ وہاں جو ہندو مسلم کشمکش ہے وہ اسی تاریخی بیک گراؤنڈ کی وجہ ہے۔ اس کے برعکس سری لنکا میں اسلام تاجروں کے ذریعہ پہنچا۔ اس لئے وہاں کی تاریخ مختلف ہے اور اسی بنا پر وہاں کے دونوں فرقوں میں کوئی کشمکش بھی نہیں ۔

طرابلس میں ایک افریقی خاتون بھی آئی ہوئی تھیں۔ ان کا نام ڈاکٹر زینب سعید کبیر ہے ۔ وہ بیرو یونیورسٹی (Bayero University) کی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں۔ یہ یونیورسٹی کانو نائیجیریا میں واقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں انگریزی الہ رسالہ منگاتی ہوں اور اس کی مستقل قاری ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم انگریزی الرسالہ کے مضامین کو کانو (Kano) کے پرچوں میں دوبارہ چھپواتے ہیں تاکہ وہ عوام تک پہنچ سکیں ۔ ان میں سے دو انگریزی زبان کے پرچے یہ ہیں : 1. The Pen Weekly 2. The Sunday Triumph Weekly اس کے علاوہ وہ انگریزی الرسالہ کے مضامین کا مقامی زبان (Hausa) میں ترجمہ کرتی ہیں اور ان کو مقامی ہو سا زبان کے پرچوں میں چھپواتی ہیں ۔ مثلاً :

1. Al-Kalam Bi-weekly 2. Al-Fijr Weekly ایک صاحب کناڈا سے آئے تھے۔ انہوں نے کچھ لٹریچر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کناڈا میں سرکاری سطح پر ایک تحریک چلائی جا رہی ہے جس کو وہ لوگ ملٹی کلچر لزم (Multiculturalism) کہتے ہیں۔ یہ اسی قومی ایکتا کے لئے ہے جس کو ہندوستان میں نیشنل انٹی گریشن (National integration)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page