رحمت للعالمين
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۹
اس دنیا میں زندگی کی صورت صرف ایک ہے۔ ممکن (Possible) پر راضی ہو کر اس کو وقفہ عمل کے طور پر استعمال کرنا، تاکہ مستقبل میں ناممکن (Impossible) تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ ممکن پر راضی ہونے سے ناممکن ملتا ہے۔ جو شخص ممکن پر راضی نہ ہو اس کا سفر ہی شروع نہ ہوگا۔ پھر وہ کسی منزل تک کس طرح پہنچ سکتا ہے۔
۲۴ ستمبر کی شام کو کانفرنس کے تمام شرکاء خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعہ لے جائے گئے۔ وہاں انھوں نے رات کا کھانا کھایا اور صدر قذافی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ تاہم میں طبیعت کی خرابی کی بنا پر بن غازی نہ جا سکا اور اس پروگرام میں شرکت نہ کر سکا۔ اس اجتماعی ملاقات کا اہتمام معمرقذافی کے روایتی خیمہ میں کیا گیا تھا۔ اس خیمہ کو اور وہاں کے آداب کو اس سے پہلے میں دیکھ چکا ہوں۔ عربی کی ایک مثل ہے: خَالِفْ تُعْرَفْ رواج کے خلاف کام کرو، تم مشہور ہو جاؤ گے۔ معمر قذافی اس اصول کی دلچسپ مثال ہیں۔ وہ اپنے کو ”فرزند صحرا“ کہتے ہیں اور اکثر حالات میں وہ اس مثل کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں بلغراد (Belgrade) میں ناوا بستہ ممالک (NAM) کی نویں کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر معمر قذافی اس طرح پہنچے کہ وہاں ان کے لئے چار اونٹ، دو عربی گھوڑے اور اسی کے ساتھ ان کا مخصوص عربی خیمہ بھی لے جایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیزوں کے ذریعہ انہیں بلغرادمیں قیام کے دوران سادگی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ معمر قذافی ہر روز صبح کو اونٹ کا دودھ ایک گلاس پیتے ہیں۔ اس کو وہ حیات بخش اور اکسیر سمجھتے ہیں۔ ان کی قیام گاہ باب العزیزی کے پاس ہر وقت کچھ اونٹ چرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
سری لنکا کے ڈاکٹر محمد شکری (۴۸ سال)، سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مسلم ڈویلپمنٹ بنک جدہ کے تعاون سے کولمبو میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے جس کا نام الجامعۃ النظیمیۃ الاسلامیہ ہے۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے اردو اخبارات میں میں نے اس قسم کے مضامین پڑھے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سری لنکا میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ انھوں نے اس سے مکمل انکار کیا۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکا میں اس قسم کی کوئی منظم کارروائی کا قطعا کوئی وجود نہیں :
There is no organised oppression against Muslims in Sri Lanka.
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues