Do or die
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۴
الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے الرسالة کے بارے میں اپنا تاثر تبصرہ یا جس کا ایک حصہ یہ تھا: لیبیا کی سرحد پر چاڈ (Chad) ملک واقع ہے۔ یہاں مسلمان تقریباً ۴۵ فی صد کی تعداد میں آباد ہیں۔ یہاں کی آبادیوں میں اسلام بہت تیزی سے پھیلا ہے :
افریقہ کے دوسرے علاقوں کی طرح ، چاڈ میں بھی مسیحی مبلغوں نے مسلمانوں کو مسیحیت میں داخل کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ مگر وہ مسلم آبادی کو متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے :
لیبیا اور چاڈ کے درمیان ایک صحرائی پٹی ہے جس کے نیچے معدنی ذخائر بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ اس کو اوز وپٹی (Aouzou Strip) کہا جاتا ہے۔ پندرہ سال پہلے لیبیا نے اس کے اندر اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ یہ لیبیا کا حصہ ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں میں جنگ ہوئی۔ اس میں بے شمار جانی و مالی نقصان ہوا۔ ۱۹۸۹ میں لیبیا نے اس جنگ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ اس اس پر راضی ہو گیا ہے کہ ہیگ کی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جو فیصلہ کرے، وہ اس کو مان لے گا۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی صورت حال ہے جو ہندوستان کے نام نہاد لیڈروں نے اجودھیا کی بابری مسجد کے معاملہ میں اختیار کی استدآ انھوں نے ریلی اور جلوس کے مظاہرے کئے ۔ مارچ اور بائیکاٹ کی دھمکیاں دیں۔ لاؤڈ اسپیکر پر نعرے لگائے کہ ہم بابری مسجد لے کر رہیں گے۔ اب جب کہ اس احمقانہ سیاست کے نتیجہ میں ملک کے فرقہ پرست ہندو اپنی تمام انتہا پسندی اور متشددانہ ارادوں کے ساتھ جاگ اٹھے تو اب وہ مسلمانوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ مسجدوں میں اس کے لئے دعا کرو۔ اور یہ کہ کورٹ جو فیصلہ دے وہ ہمیں منظور ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں فارسی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues