Al-Risala · January 1990 · page 7

غلط رہنمائی

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۷

غلط رہنمائی

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے جب مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی، اس وقت حضرت ابراہیم نے یہ دعا فرمائی کہ اے ہمارے رب، تو ہم دونوں کو مسلم (مطیع) بنا۔ اور ہماری نسل سے ایک مسلم امت (مطیع امت)، برپا کر (البقرہ (۱۲۹)، اس واقعہ کے ڈھائی ہزار سال بعد جب یہ امت، امتِ محمدی کی صورت میں اٹھی تو پچھلی تاریخ کو یاد دلاتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ اللہ نے تمہارے باپ ابراہیم کی ملت کو تمہارے لیے پسند فرمایا ہے۔ ابراہیم نے تمہارا نام مسلم (مطیع) رکھا تھا اس سے پہلے (الحج ۷۸) یہ قرآن کا طریقہ ہے۔ قرآن نے دورِ اول کے مسلمانوں کو عمل پر ابھارنے کے لیے ماضی کا حوالہ دیا۔ ان کو ان کے آبار واجداد کی یاد دلائی۔ مگر قرآن نے یہ زبان استعمال نہیں کی کہ ـــــ اے مومنو، تم اسی ابراہیم کی اولاد ہو جس نے بتوں کو توڑ کر پاش پاش کر دیا۔ جس کے ایک کلمہ سے بھڑکتی ہوئی آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ جو اپنے وقت کے نمرودوں کو خاطر میں نہیں لایا۔ اس کے برعکس قرآن نے اہل ایمان کو حضرت ابراہیم کے اس پہلو کی یاد دلائی کہ انہوں نے تمہارا نام مسلم و مطیع رکھا تھا ۔ وہ تم کو اطاعت گزار اور فرماں بردار دیکھنا چاہتے تھے۔

اب موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کو دیکھئے۔ یہ مسلم رہنما بھی مسلمانوں کو ان کی گزشتہ تاریخ یاد دلا کر ان کے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کا طریقہ قرآن کے سراسر خلاف ہے۔ ان میں سے کوئی شخص جب بولتا یا لکھتا ہے تو اس کی زبان یہ ہوتی ہے ـــــ مسلمانو، تم وہی تو ہو جن کے اجداد نے قیصر و کسر یٰ کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا تھا۔ تم وہی تو ہو جن کی تلواروں کے آگے قومیں جھکنے پر مجبور ہوگئی تھیں ۔ تم وہی تو ہو جنہوں نے شعلہ بن کر باطل کی خاشاک کو پھونک ڈالا تھا ۔ تم وہی توہو جنہوں نے محتسب کائنات بن کر سارے عالم پر حکمرانی کی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے تاریخ کا حوالہ اس لیے دیا تھا کہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے اندر تواضع اور اطاعت گذاری کا جذبہ پیدا ہو۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما تاریخ کا حوالہ اس لیے دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر فخر اور حکمرانی کا جذبہ بیدار کریں۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ بلاشبہ ان کی یہی غلط رہنمائی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page