حرف آخر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۷
میں جمعہ کی نماز پڑھی ۔ نماز کے بعد ایک صاحب ان سے ملے اور الرسالہ کی بات شروع کر دی ۔ ڈاکٹر صدیقی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ اس سے معلوم ہو اکه الرساله ہانگ کانگ میں بھی پہنچا ہوا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ آج الرساله دنیا کے ہر حصہ میں پہنچ رہا ہے ۔ سید لیاقت علی صاحب (ناگپور) نے بتایا کہ وہ آفسٹ پرنٹنگ کا کام کرتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں انھیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے سابقہ پڑتا ہے ۔ وہ لوگ اکثر اسلام کے بارہ میں انگریزی کتابیں مانگتے ہیں ۔ لیاقت علی صاحب نے کہا کہ ان لوگوں کو دینے کے لئے سب سے زیادہ موزوں کتابیں اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں ہیں ۔ چنانچہ میں ان لوگوں کو یہ کتابیں دیتا رہتا ہوں ۔ اسی طرح اور بہت سے لوگ ہیں جو اس انداز پر کام کر رہے ہیں ۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : ایک دوست کی دکان پر الرساله اردو پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ کافی متاثر ہوا ۔ فوراً اُس کا سالانہ خریدار بن گیا ۔ باقاعدگی سے اس کو پڑھ رہا ہوں اور دوسروں کو بھی پڑھنے کے لئے دیتا ہوں ۔ فائل بھی بنائی ہے پرچہ کا بے چینی سے انتظار کرتا ہوں ۔ تبلیغی و دعوتی کام کو آپ بہت اچھی طرح انجام دے رہے ہیں (سراج الدین بلساری ، بمبئی)
ایک صاحب لکھتے ہیں : اگر کوئی شخص اس مصروف اور مشینی زندگی میں صرف ایک رسالہ پڑھنا چاہے تو اس کو الرسالہ کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ وہ کون سا شعبہ ہے جو الرسالہ میں نہیں ۔ اسلامیات تاریخ، جغرافیہ ، ادب ، فلسفہ ، منطق ، عام معلومات، غرض الرساله ہر موضوع کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ انداز بیان اتنا دلکش اور مؤثر کہ پڑھتے ہی دل میں اتر جائے ۔ الرسالہ واقعی روح کی غذا ہے یہ واحد رسالہ ہے جو اسلام کو موجودہ سائنٹفک اسلوب اور مؤثر پیرایہ میں پیش کرتا ہے ۔ (مناظر حسن شاہین ، گیا)
پاکستان سے ایک صاحب لکھتے ہیں : آپ کی کتاب " اللہ اکبر " پڑھ کر بہت ہی طبیعت کو سرور حاصل ہوا ۔ اور ایک ہلچل سی مچ گئی ۔ اگر آپ اجازت دیں تو دل چاہتا ہے کہ میں اس کا انگریزی ترجمہ کر دوں ۔ تاکہ مغربی دنیا کی مادی زندگی کو اس کا شعور دلایا جائے ۔ اس سلسلہ میں میں کوئی مالی فائدہ حاصل کرنا نہیں چاہتا ۔ محض ایک فرض ادا کرنا چاہتا ہوں (محمد عبد الجمیل ، کراچی)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues