حرف آخر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۶
پاکستان سے ایک صاحب لکھتے ہیں: میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ اس سلسلہ میں اپنا ایک واقعہ آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ ۱۳ جولائی ۱۹۹۰ کو ہمارے یہاں میرے پوتے کا عقیقہ اور سالگرہ تھا۔ گیٹ پر اور دروازہ پر غبارے لگائے گئے تھے۔ محلہ کے بچوں نے دھوم مچا رکھی تھی اور چند بچے شرارت کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان غباروں پر پتھر مار رہے تھے۔ میں نے چوکیدار کو ہدایت کی کہ ان بچوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ لیکن اچانک الرسالہ کی نصیحت یاد آئی۔ میں نے چوکیدار کو واپس بلایا اور خود گیٹ پر جاکر بچوں میں چند غبارے تقسیم کر دئے۔ وہ بچے بے حد خوش ہوئے اور واپس چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ ہر گھر میں پڑھا جانا چاہئے۔ انشاء اللہ اپنے حلقہ میں اس کی اشاعت بڑھانے کی کوشش کروں گا (احمد عبد المیار کراچی)
ایک صاحب لکھتے ہیں: ہمارے شہر اورنگ آباد میں مکتبہ اسلامی کے یہاں الرسالہ کی ایجنسی تھی۔ جن سے ہم براہِ الرسالہ لیا کرتے تھے۔ اگست ۱۹۹۰ کے الرسالہ کی ہم نے ان سے مانگ کی تو معلوم ہو کہ الرسالہ انھوں نے منگوانا بند کر دیا ہے۔ جس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ مولانا کی ہماری جماعت سے کھلی دشمنی نے ہمیں مجبور کر دیا کہ ان کے الرسالہ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کی اس تنگ نظری اور نازیبا حرکت پر الرسالہ پڑھنے والوں میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جس کا متبادل ذریعہ ہمارے نزدیک یہ طے ہوا کہ ہم خود الرسالہ کی ایجنسی لے لیں۔ لہٰذا گزارش ہے کہ آپ براہِ الرسالہ کی ۲۰ کاپیاں ہمارے پتہ پر روانہ کریں (حاجی عارف خاں، اورنگ آباد) مولانامحمد یوسف ندوی بھوپال سے لکھتے ہیں: ہندی الرسالہ کی خبر الرسالہ کے قارئین کے لئے انتہائی خوش کن ہے۔ مولاناحمید اللہ ندوی ہندی الرسالہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کے لئے کوشاں ہیں۔ الحمد للہ ایک درجن سے زیادہ لوگوں نے ہر ماہ پانچ الرسالہ لینے کا عہد کیا ہے۔ یہ حضرات ہر ماہ پانچ الرسالہ ہندی خرید کر اپنے غیر مسلم دوستوں میں تقسیم کریں گے۔ یہاں عام تاثر یہ ہے کہ ہندی الرسالہ انشاء اللہ غیر مسلموں میں صحیح اسلام کے تعارف اور غلط فہمیوں کے ازالہ کا ذریعہ بنے گا۔
ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی بانگ کانگ گئے۔ وہاں ۷ اگست ۱۹۹۰ کو انھوں نے مقامی جامع مسجد
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues