صبر کی طاقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۹
صبر کی طاقت
حضرت موسی اور حضرت مسیح کے درمیانی زمانہ میں بنی اسرائیل کے یہاں جنگ کا ایک واقعہ ہوا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے جوانوں کی تعداد کم تھی اور دشمن کی فوج تعداد اور اسباب میں بہت زیادہ تھی۔ اس فرق کو دیکھ کر بنی اسرائیل کے لوگ ڈر گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں (البقرہ ۲۴۹)
بائبل کے بیان کے مطابق، اس وقت بنی اسرائیل کے سردار (یونتن) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آہم اُدھر ان نا مختونوں کی چوکی کو چلیں۔ ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے۔ کیوں کہ خداوند کے لئے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعہ سے بچانے کی قید نہیں (۱۔ سموئیل ۱۴ : ۶)۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے:
قال الذين يظنون انهم ملاقو جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، اللہ کم من فئة قليلة غلبت انھوں نے کہا کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم فئة كثيرة باذن الله والله مع سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ صبر الصابرين (البقرہ ۲۴۹) کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس آیت میں قلیل اور کثیر کا لفظ صرف عددی معنوں میں اقلیت اور اکثریت کے لئے نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کمزور اور طاقت ور کے معنی میں بھی ہے۔ عربی زبان میں قلیل اور کثیر کا لفظ اس توسعی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جاہلی دور کے عرب شاعر کا یہ شعر اس کی ایک مثال ہے: فان اك في شراركم قليل فانی فی خیاركم كثير قرآن کی اس آیت میں دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ کسی گروہ کا قلیل التعداد یا کمزور ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کثیر التعداد یا طاقت ور فریق کے مقابلہ میں ہمیشہ ناکام رہے۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کمزور بھی طاقت ور پر غالب آسکتا ہے۔ یہاں اقلیت بھی اکثریت کو مفتوح کر سکتی ہے۔
اس فتح و کامرانی کا راز آیت میں صبر بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues