Al-Risala · January 1991 · page 10

صبر کی طاقت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۰

انفعالی کیفیت یا بزدلی کی چیز نہیں۔ صبر ایک فعال صفت ہے۔ وہ ایک بہادرانہ خصوصیت ہے۔ صبر اتنی عظیم چیز ہے کہ جو لوگ اس کا ثبوت دیں وہ خدا کی خصوصی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلتا ہے کہ ایک بظاہر کمزور گروہ ایک بظاہر طاقت ور گروہ کے اوپر غلبہ حاصل کر لیتا ہے موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ہمیشہ مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ غالب آ جاتا ہے اور دوسرا گروہ اس کے مقابلہ میں بظاہر مغلوب اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔

جب کوئی گروہ دوسرے کے مقابلہ میں کمزور پڑ جائے اور اس کو نقصان اٹھانا پڑے تو اس کے بعد کمزور گروہ کے ردعمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک غیرصابرانہ ردعمل، دوسرا صابرانہ ردعمل۔ غیرصابرانہ ردعمل یہ ہے کہ آدمی مایوسی اور احساسِ شکست کا شکار ہو کر رہ جائے۔ وہ پست، ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ وہ سمجھے کہ اب میرے لئے یہاں کچھ نہیں ہے۔ وہ دوسرے گروہ کو اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف فریاد اور احتجاج کرنے لگے۔ یہ تباہی کی صورت ہے۔ دوسروں نے اگر اس کو ابتدائی نقصان پہنچایا تھا تو اس کے بعد وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر اپنی تباہی کی تکمیل کر لیتا ہے۔

دوسرا ر عمل صابرانہ ردعمل ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو چوٹ لگنے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالتا ہے۔ اس کا ذہن شکایت کرنے کے بجائے تدبیر کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ مایوسی میں پڑنے کے بجائے امید کے پہلوؤں پر غور کرتا ہے۔ وہ کھوئے ہوئے کا غم کرنے کے بجائے یہ چاہتا ہے کہ ملے ہوئے کو استعمال کرے۔

جو لوگ زک اٹھانے کے بعد اس طرح صبر کے طریقہ کو اختیار کریں وہ گویا اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتے ہیں جہاں ان کے اندر چھپے ہوئے امکانات جاگیں۔ ان کی شخصیت مزید طاقت کے ساتھ ابھر آئے۔

غیر صابر آدمی نقصان کو نقصان کے روپ میں دیکھتا ہے ۔ صابر آدمی نقصان کو اپنے لئے چیلنج سمجھتا ہے ۔ وہ حالات کا مقابلہ کر کے اپنے آپ کو آگے لے جانا چاہتا ہے ۔ اور جو لوگ نقصان کا اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues

Printed page